تہران / واشنگٹن:امریکا اور ایران کے درمیان جاری عسکری محاذ آرائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں شادی کی تقریب پرہونے والے شدید میزائل حملوں میں کم از کم 7 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے ہیں۔ صوبے کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے اہواز اور اغاجری کے علاقوں میں کیے گئے۔
Children wounded in the U.S. attack on a wedding celebration in Kuhestak receive treatment at a hospital in Minab, in Iran’s Hormozgan province.
5 people were killed in the attack, including a 4-year old child, and 63 injured, including 50 women and children, according to… https://t.co/7jhfvvEve9 pic.twitter.com/mPCBmVicYb
— Drop Site (@DropSiteNews) September 2, 2026
ایرانی حکام نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں "دہشت گرد امریکی جارحیت” قرار دیا ہے۔ حملوں کے بعد خطے میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
🚨 BREAKING: 🇺🇸🇮🇷
Iranian officials say a U.S. strike hit a wedding gathering in Kuhestak, killing at least 5 people and injuring 63 others, including 50 women and children.
Reports claiming the weapon was an AGM-84 SLAM-ER are still unconfirmed. pic.twitter.com/kbMSUaQUlv
— Levant News (@LevantWire) September 2, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان حملوں کے فوری بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اردن میں واقع امریکی "شہزادہ حسن ایئر بیس” پر ایک بڑا بیلسٹک میزائل آپریشن کیا ہے۔ اس کارروائی میں خاص طور پر جاسوس ڈرونز (RQ-4 اور MQ-9) کے ہینگرز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ڈرونز تباہ اور امریکی عملے کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس کے علاوہ آئی آر جی سی نے عراق اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی اپنے میزائل حملوں کی زد میں لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بحرین نے اب تک اپنے شہریوں کو پنا ہ گاہوں میں منتقل ہونے کے لئے تین وارننگز جاری کرچکا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ نہیں ڈال رہے، کیونکہ آبنائے ہرمز پر اب امریکا کا "تقریباً مکمل کنٹرول” قائم ہو چکا ہے اور سخت پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) فورسز نے بھی ایران کے خلاف اپنے فضائی اور میزائل حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں ایرانی فضائی دفاعی تنصیبات، مواصلاتی مراکز اور سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
Today at 12 p.m. ET, U.S. forces began striking Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) targets in Iran. The strikes follow recent attempted attacks by the IRGC against commercial shipping in the Strait of Hormuz and against American service members deployed to the region.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 1, 2026
اس تمام صورتحال پر یمن کے حوثی گروپ نے تہران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک اپنے خطے کو امریکی حملوں کے لیے استعمال ہونے دیں گے، انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ خطے میں جاری اس جنگی کیفیت نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور امن کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔


