قاہرہ:چین کے صدر شی جن پنگ کا منگل کو مصر کا دورہ ایک رسمی قیام سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ دودہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک اپنے اقتصادی روبط کو مستحکم، ٹیکنالوجی اور دفاع میں تعاون کو وسیع اور کلیدی علاقائی و بین الاقوامی مسائل پر تیزی سے صف بندی کر رہے ہیں – اس سے مصر اور چین کے روابط کی فروغ پذیر تزویری اہمیت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
🇪🇬 🇨🇳 | Le président égyptien Abdel Fattah al-Sissi et son épouse ont accueilli le président chinois Xi Jinping et son épouse à leur arrivée à l’aéroport international du Caire. pic.twitter.com/sH6Eh0GapS
— Egypt News (@EgyptNews_fr) September 1, 2026
چینی رہنما قاہرہ کے سہ روزہ سرکاری دورے پر ہیں جو ایک عشرے میں ان کا مصر کا اولین دورہ ہے۔ قاہرہ میں قائم سیاسی امور کے تھنک ٹینک تفکیر کے سربراہ ہانی ال جمال نے کہا، "یہ سفارتی عمل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ اقتصادی و جغرافیائی طور پر چین کے لیے مصر کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔”
انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "مصر اور چین کے درمیان تاریخی روابط جن کی جڑیں دنیا کی دو قدیم ترین تہذیبوں کے درمیان ہیں، صدر شی جن پنگ کے دورے سے نئی رفتار حاصل کر رہے ہیں۔ چین یہ ظاہر کرنے کا خواہاں ہے کہ شرقِ اوسط میں اس کا ایک تزویری شراکت دار ہے اور یہ کہ قاہرہ کا رخ صرف واشنگٹن کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ دوسری بڑی طاقتوں سے بھی مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔”
سیاسی تجزیہ کار سعید صادق نے کہا، "یہ دورہ علاقائی انتشار کے وقت باہمی سیاسی اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔ یہ انقلابی کے بجائے ارتقائی ہے۔ یہ ایک پختہ شراکت داری کو مستحکم کرتا ہے جو صنعت، دفاعی مشقوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 2016 کی بنیادی لکیر سے آگے نکل چکی ہے۔”
صادق نے کہا، مصر تزویری خود مختاری اور متنوع شراکت داری پر زور دیتا ہے جبکہ چین عرب دنیا اور افریقہ میں تزویراتی اہمیت کے حامل قابلِ اعتماد شراکت داروں کی قدر کرتا ہے۔

