مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ سیاسی ترجیحات اور قومی مفاد کے معاملے پر دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، سکھر میں خطاب
سکھر:جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سکھر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکمران اتحاد اور موجودہ سیاسی صورتحال پر دوٹوک اور سخت الفاظ میں اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت تو ہماری روایتی مخالفت کے مقابلے میں ایک "شریف اور فقیر قسم کی حکومت” ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کے ہر فیصلے اور ترجیحات پر بلاچوں و چراں آنکھیں بند کر کے سر تسلیم خم کر لیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے ماضی کی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے پرعزم لہجے میں کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو ماضی میں آمریت کے سامنے کبھی نہیں جھکے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ "جب جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی تو کیا ہم نے ان کی پالیسیوں کا کھل کر میدان میں مقابلہ نہیں کیا تھا؟”
یہ تو میرے بڑے فقیر قسم کے، شریف قسم کے شہباز شریف کی حکومت ہے۔جب جنرل مشرف کی حکومت تھی تو ہم ان کی پالیسی کے مقابلے میں میدان میں نہیں آئے تھے؟
ہم ایوب خان کے خلاف میدان میں آئے ہیں، ہم جنرل ضیاء الحق کے خلاف میدان میں آئے ہیں، ہم جیلوں میں رہے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ آپ جو… pic.twitter.com/zMth7uaQAe— Waseem Abbasi (@Wabbasi007) August 31, 2026
اپنے تاریخی پس منظر کو دہراتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ملک میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ "ہم ایوب خان کے خلاف بھی عملی میدان میں آئے اور ہم نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا، جس کے لیے ہم نے طویل جیلیں کاٹیں اور صعوبتیں برداشت کیں۔”
جے یو آئی ف کے سربراہ نے حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ حکمران اپنی مرضی کی ترجیحات طے کریں اور ہم ہر غلط پالیسی پر ’آمنا و صدقنا‘ (ہاں میں ہاں) کہتے رہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت عوامی حقوق، آئین کی بالادستی اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اصولوں کی سیاست پر ڈٹی رہے گی۔

