کھٹمنڈو:نیپال میں سیلاب متاثرہ شہریوں کی کئی منزلہ کیچڑ سے نمٹنے اور لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی نئی جنگ شروع،،،تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 ہو گئی ہے جبکہ 4,200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے مطابق نیپال میں 275 انڈین شہری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ انڈین نژاد مزید 128 افراد بھی لاپتہ ہیں۔
وزارت کے مطابق 403 انڈین شہری چین سے نیپال میں داخل ہوئے جبکہ مزید 500 انڈین شہری چین میں محفوظ ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 149 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔
انڈیا نے نیپال میں امدادی کارروائیوں کے لیے اپنی مدد بھی بڑھا دی ہے۔ 19 رکنی خصوصی فرانزک ٹیم نے کھٹمنڈو میں کام شروع کر دیا ہے جو ڈی این اے نمونوں کے تجزیے اور ہلاک ہونے والوں کی شناخت میں مدد کر رہی ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے آج بتایا ہے کہ 43 آسٹریلوی شہری لاپتہ ہیں۔ نیپال ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں چِتوان میں ہوئی ہیں، جہاں 264 افراد جان سے گئے۔ اس کے بعد نوال پراسی ایسٹ میں 194، نوال پراسی ویسٹ میں 120، گورکھا میں 58، نواکوٹ میں 52، دھادنگ میں 50، تنہون میں 37 اور رسوا میں 13 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ نامعلوم لاشوں کو شناخت کے لیے ملک بھر کے 21 اسپتالوں میں رکھا گیا ہے۔
لاپتا افراد میں 933 افراد علاقائی پن بجلی منصوبوں کے ملازمین ہیں، جبکہ 592 غیر ملکی شہری اور 127 ایسے نیپالی شہری بھی شامل ہیں جو غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ لاپتا افراد کی فہرست میں پولیس، فوج، مسلح پولیس فورس، کسٹمز اور امیگریشن کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق 239 زخمیوں کا علاج جاری ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں چھ سرجیکل میڈیکل ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
نیپال میں کیچڑ سے نمٹنے، لاشوں کی آخری رسومات کی جنگ، ہلاکتیں 903، 4200 افراد اب بھی لاپتہ

