تہران:خلیجی خطے میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے جب ایران کے پاسداران انقلاب نے جزیرہ لارک پر ہونے والے امریکی حملے کے جواب میں اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغ دیے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ جوابی کارروائی اتوار اور پیر کی درمیانی شب کی گئی۔
دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی ایک AI ویڈیو کلپ پوسٹ کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایران کے خارگ جزیرے کے تیل کے انفراسٹرکچر کو آگ میں لپٹا ہوا دکھا یا گیا ہے، ایک جملے کے کیپشن کے ساتھ:
"خارگ جزیرہ کو تباہ پھیلانےوالوں کے لیے اڑا یا جا رہا ہے!!!”
🇺🇸🇮🇷 oh yeah, and then there's also this one:
Source: @realDonaldTrump / Writer: Oliver https://t.co/Afr4uHQktw pic.twitter.com/TJLO6P5Zdj
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 31, 2026
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے کے دوران اردن کے اندر موجود امریکی فضائی اڈوں (کنگ حسین اور الازرق بیس) کے تکنیکی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب اردنی عسکری حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے میزائلوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا ہی میں روک لیا گیا، جس سے کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔اس کشیدگی کا آغاز اتوار کے روز اس وقت ہوا جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے لارک پر دو میزائل لانچرز کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایرانی فورسز آبنائے ہرمز کے اہم بین الاقوامی بحری راستوں پر بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔ امریکہ کی جانب سے اس کارروائی کو تجارت کے آزادانہ بہاؤ اور بحری سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا، جبکہ چند روز قبل ہی امریکی فوج نے اس آبی گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب نے جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے میں اپنے چند اہلکاروں اور شہریوں کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے سخت انتقامی کارروائی کا انتباہ دیا تھا، جس کے فوری بعد اردن میں موجود امریکی تنصیبات پر یہ میزائل حملے سامنے آئے ہیں۔

