واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جمعرات کے روز دستخط کیے جانے والے ایک نئے اور حیرت انگیز ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بین الاقوامی سرحد پر واقع جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کر کے "جھیل امریکا” (Lake America) رکھ دیا گیا ہے۔ اس یکطرفہ فیصلے کے بعد واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، اور ایوانِ نمائندگان (House) کے ڈیموکریٹس نے اس حکم نامے کو ناکام بنانے کے لیے فوری طور پر نئی قانون سازی کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو گئی ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان پہلے ہی معاشی محاذ پر شدید کشیدگی عروج پر ہے۔ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں واشنگٹن نے کینیڈین درآمدات پر 50 فیصد تک کے بھاری ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ اس کے جواب میں کینیڈین حکومت نے بھی ہو بہو ویسا ہی ردعمل دینے اور جوابی محصولات عائد کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔
ڈیموکریٹک قانون سازوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ایسے غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز اقدامات کینیڈا جیسے قریبی اتحادی کے ساتھ تجارتی اور سفارتی جنگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے کروڑوں شہریوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
جھیل اونٹاریو شمالی امریکا کی پانچ عظیم جھیلوں (Great Lakes) میں سے ایک ہے، جو امریکا کی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے؛ اس کی تقریباً 52 فیصد سطح کینیڈا اور باقی حصہ امریکا میں آتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ کا حکم صرف امریکی وفاقی حکومت کے ریکارڈ اور استعمال پر لاگو ہوتا ہے؛ وہ کینیڈا کو نام تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ تازہ صورتحال میں کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ نیویارک کی ڈیموکریٹک گورنر کیتھی ہوکل نے بھی نام تبدیل کرنے سے انکار کیا، جبکہ ورمونٹ کے ریپبلکن گورنر فل اسکاٹ نے بھی فیصلے کو ’’معمولی اور مایوس کن‘‘ قرار دیا۔ یعنی جھیل کا نام حقیقتاً دنیا بھر میں تبدیل نہیں ہوا؛ امریکا اپنی وفاقی دستاویزات میں ’’لیک امریکا‘‘ لکھے گا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے "لیک امریکا” رکھنے کا اعلان کر دیا۔ جبکہ کینیڈا اور مخالف امریکی ریاستی حکام اسے بدستور ’’لیک اونٹاریو‘‘ ہی کہتے رہیں گے
جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر "جھیل امریکا” رکھنے پر تنازع: ڈیموکریٹس کا ایگزیکٹو آرڈر کو ناکام بنانے کے لیے قانون سازی کا اعلان

