پاکپتن(اکرام حسین شاہ سے)
پاکپتن کے تھانہ ملکہ ہانس کے علاقے 70 ڈی میں فصلوں کو پانی لگانے والے کھال سے ایک 55 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی، جسے ابتدائی طور پر لاوارث لاش قرار دیا گیا اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کے حوالے سے شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ ساتھ آس پاس کے لوگوں سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیم کو بھی موقع پر طلب کیا گیا
اسی دوران ایک شخص محمد قیوم پولیس کے پاس پہنچا اور لاش کی شناخت اپنے حقیقی بھائی محمد اقبال بھٹی کے نام سے کی۔ محمد قیوم نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بھائی گزشتہ تین سے چار روز سے گھر سے لاپتہ تھا اور اس کا ذہنی توازن بھی درست نہیں تھا۔ محمد قیوم کے مطابق ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور انہیں کسی پر اپنے بھائی کو قتل کرنے کا شبہ نہیں ہے
پولیس کے مطابق متوفی کے جسم پر بظاہر ایسے کوئی تشدد کے نشانات بھی موجود نہیں تھے جن سے یہ ثابت ہو کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس موقع پر متوفی کے بھائی محمد قیوم نے پولیس کو بیان دیا کہ اس کے بھائی کی موت اللہ کی طرف سے ہوئی ہے، لہٰذا وہ نہ پوسٹ مارٹم کروانا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی قانونی کارروائی چاہتے ہیں، بلکہ اپنے بھائی کی میت ان کے حوالے کی جائے گےپولیس نے متوفی کے حقیقی بھائی محمد قیوم کا بیان باقاعدہ طور پر ریکارڈ کیا، جس کے بعد قانونی ضابطے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے محمد اقبال بٹی کی لاش اس کے حقیقی بھائی محمد قیوم کے حوالے کر دی گئی۔





