، قصور رپورٹ: محمد وقاص اشرف
قصور شہر میں سرکاری طور پر فراہم کیے جانے والے آٹے کے معیار پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متعدد شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر فروخت ہونے والے آٹے میں مختلف اجزاء کی آمیزش پائی جاتی ہے، جس کے باعث آٹے کا معیار متاثر ہو رہا ہے اور یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔شہریوں کے مطابق ناقص آٹا خریدنے کے بعد جب وہ دکانداروں سے شکایت کرتے ہیں یا آٹا واپس کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات معاملہ تلخ کلامی اور جھگڑے تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ دکاندار آٹا واپس لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔شہریوں کا مؤقف ہے کہ کئی دکاندار آٹے کے معیار سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے فروخت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔سماجی حلقوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ قصور اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے کے معیار کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کے عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔شہریوں نے کہا کہ اگر کسی مخصوص بیچ یا سپلائی میں معیار کا مسئلہ موجود ہے تو اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں عوام کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور متعلقہ اداروں کو اس معاملے میں فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔


