آئی جی پنجاب عبدالکریم کی تعلیمی اداروں، ہاسٹلز اور آن لائن سپلائی چین میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی ہدایت
لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "ڈرگ فری پنجاب” ویژن کے تحت صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور سمگلرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں تیزی آ گئی ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) پنجاب عبدالکریم نے منشیات کے بڑے ڈیلرز اور نیٹ ورکس کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کا سخت حکم جاری کر دیا ہے۔
پنجاب پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 33 ہزار 940 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ ان کے خلاف 33 ہزار 542 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پولیس کی جانب سے کیے جانے والے چھاپوں کے دوران منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں نشہ آور اشیاء برآمد کی گئی ہیں، جن میں درج ذیل اشیاء شامل ہیں:
چرس: 17 ہزار 577 کلوگرام
ہیروئن: 1538 کلوگرام
آئس (ICE): 1137 کلوگرام
افیون: 750 کلوگرام
شراب: 4 لاکھ 87 ہزار لیٹر سے زائد
صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی منشیات کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان پولیس کے مطابق رواں سال لاہور میں 4830 منشیات فروش گرفتار کیے گئے اور 4675 مقدمات درج کیے گئے۔ لاہور پولیس نے کارروائیوں کے دوران ملزمان سے 1752 کلوگرام چرس، 103 کلوگرام ہیروئن، 513 کلوگرام آئس، 46 کلوگرام افیون اور 20 ہزار 580 لیٹر شراب برآمد کی۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تمام فیلڈ افسران کو ہدایت کی ہے کہ منشیات کی سپلائی چین میں ملوث ہر چھوٹے بڑے ملزم کو قانون کی گرفت میں لا کر عدالتوں سے عبرتناک سزائیں دلوائی جائیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر تعلیمی اداروں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور ہاسٹلز کے گردونواح میں زہر بیچنے والوں کے خلاف آپریشنز مزید تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے منشیات کی آن لائن خرید و فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

