جیکب آباد(رپورٹ:مجیب الرحمان)
جیکب آباد آئی جی سندھ پولیس کے اپنے آبائی علاقے جیکب آباد تحصیل گڑھی خیرو میں امن و امان کی صورتحال سنگین صورت اختیار کر گئی، جہاں ایک ہی دن میں 3 افراد کو قتل کر دیا گیا جبکہ 5 سے زائد ڈکیتیوں اور جرائم کی وارداتوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ مسلسل بڑھتی وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی، گشت اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف حکمتِ عملی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں علاقہ مکینوں کے مطابق گڑھی خیرو تحصیل میں شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ قاتل اور ڈاکو دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی عوامی توقعات پر پوری اترتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ایک ہی دن میں قتل اور متعدد ڈکیتیوں کی وارداتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کس قدر بے خوف ہو چکے ہیں۔شہری حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب آئی جی سندھ پولیس کے اپنے علاقے میں قانون کی یہ صورتحال ہے تو عام علاقوں کے عوام کے تحفظ کا کیا حال ہوگا؟ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ گڑھی خیرو میں بڑھتی ہوئی بدامنی کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیا جائے، قتل اور ڈکیتیوں میں ملوث تمام عناصر کو بلاامتیاز گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔


