سینئر صحافی حسین بنگش نے ایک بیان میں کہاہے کہپاکستان میں دوسرا ذولفقار علی بھٹو کھبی نہیں آسکتا جو نہ باہر گیا نہ بیماری کا بہانہ کیا نہ ہی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں ڈیل کے بنیاد پر استمعال سر خم تسلیم ہوا وہ سیدھا دار پر چڑھ کر ہمیشہ کیلیے زندہ جاوید رہ گیا مگر نام انکا باقی رہ گیا شہید ذولفقار علی بھٹو مثال سیاسی تاریخ میں بن گیا آج کل کے سیاستدان سال تین سال بھی جیل نہیں گزار سکتے سزا اور جیل کی سختیوں ، خوف سے فورا بیمار پڑھ جاتے کویء دل کویء آنکھ کے امراض کو رہائی یا فرار کرنے کا بہانہ تلاش کرلیتے ہیں یا تو سیدھا ایک بار پھر سے اسٹبلشمنٹ کیلئے سراپا فرمان برداری کا وعدہ کرلیتے ہیں ہر بات مانننے کیلئے تیار بھی ہو جاتے ہیں لیکن ہاں ذولفقار علی بھٹو صدیوں بعد صرف ایک ہی تھا اور پیدا ہوتا ہے

