ڈھاکا :بنگلہ دیش میں اہم اور تاریخی سیاسی پیش رفت ، حکمران جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے سینئر رہنما اور سابق سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو ملک کا 23 واں صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے امیدوار اولی احمد کو شکست، نومنتخب صدر جمعہ کی شام بنگ بھون کے دربار ہال میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے
قومی پارلیمنٹ ‘جاتی سنسد’ میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب میں مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے 255 ووٹ حاصل کیے۔ انہوں نے جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) سمیت 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کے حمایت یافتہ امیدوار اولی احمد کو شکست دی، جو کہ 88 ووٹ حاصل کر سکے۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین کی زیر نگرانی ہونے والے اس انتخاب میں کُل 343 ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
یہ انتخاب بنگلہ دیشی تاریخ میں اس لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ گزشتہ 35 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ صدارتی منصب کے لیے ایک سے زائد امیدواروں کے درمیان باقاعدہ مقابلہ دیکھنے میں آیا، جبکہ اس سے قبل طویل عرصے تک صدارتی انتخابات بلامقابلہ ہوتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق صدر محمد شہاب الدین کے صحت کی خرابی کے باعث استعفیٰ دینے کے بعد یہ عہدہ خالی ہوا تھا، جس کے تحت آئین کے مطابق 90 روز کے اندر نیا صدر منتخب کرنا لازمی تھا۔ صدارتی امیدوار نامزد ہونے کے بعد مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے بی این پی کے سیکرٹری جنرل اور پارٹی کی قومی قائمہ کمیٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
نومنتخب صدر مرزا فخر الاسلام عالمگیر جمعہ کی شام دارالحکومت ڈھاکا میں واقع صدارتی محل ‘بنگ بھون’ کے دربار ہال میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
ڈھاکا: بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب ،کل حلف اٹھائینگے

