اسلام آ باد:قومی اسمبلی نے ’ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026‘ اور ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ‘ میں ترمیم کے بِل کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے دونوں بِل ایوان میں پیش کیے جب کہ اپوزیشن نے ترامیم پر اعتراض کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
جمعرات کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ ترمیمی بل 2026 کی شق وار منظوری لی گئی، جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
مجوزہ قانون کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کو چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے اختیارات حاصل ہوں گے جب کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی کمانڈ اور کنٹرول سے متعلق اختیارات دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو قومی سلامتی اور مسلح افواج سے متعلق امور میں وزیراعظم کو مشورہ دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ انہیں مسلح افواج کی تنظیم سے متعلق وسیع اختیارات حاصل ہوں گے جس میں اہم فوجی امور میں ضروری اقدامات کرنے کا اختیار بھی شامل ہے۔
بل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کا باقاعدہ تعین کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جس کے تحت ’سی ڈی ایف‘ کو قانون کے تحت تفویض کردہ اختیارات استعمال کرنے کا اختیار ہوگا جب کہ انہیں وزیراعظم کی منظوری سے اضافی اختیارات بھی تفویض کیے جا سکیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو تفویض کردہ اختیارات کے استعمال کے لیے حکومتی منظوری کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا جب کہ انہیں بعض اختیارات براہِ راست استعمال کرنے کی بھی اجازت ہوگی۔
‘ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026‘ میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو قواعد و ضوابط وضع کرنے اور ہدایات و احکامات جاری کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ قانون سے متعلق کسی ابہام کی صورت میں صدرِ مملکت کے حکم کو حتمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
بِل میں پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کو فوری طور پر نافذ کرنے کے علاوہ ایکٹ سے قبل جاری کیے گئے احکامات، ہدایات اور اعلانات کو بھی برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ’نیشنل کمانڈ ایکٹ 2010‘ میں ترمیم کا مسودہ بھی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ یہ بِل بھی قومی اسمبلی سے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026 (ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026) کے مسودے اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق دفاعی افواج ایکٹ 2026 کا مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس ترمیم کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز سے متعلق انتظامی امور کا تعین کرنا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترمیم کی بھی منظوری دی ہے، جو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک ضروری عمل تھا۔
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دنوں بِلوں کو اگلے مرحلے میں منظوری کے لیے سینیٹ بھیجا جائے گا۔
ایوان میں عددی اکثریت کو برقرار رکھنے اور بل کی کامیابی سے منظوری کو یقینی بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اپنے تمام اراکینِ اسمبلی کو سخت ہدایات جاری کی تھیں۔
پارٹی قیادت کی جانب سے تمام اراکین کو آج کے اجلاس میں اپنی حاضری سو فیصد یقینی بنانے کا پابند کیا گیا تھا تاکہ قانون سازی کے اس عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے وسیع اختیارات دینے کا بِل قومی اسمبلی سے منظور

