بیجنگ:چین کی ایک عدالت نے بحران کا شکار ہونے والی ملک کی معروف پراپرٹی کمپنی ‘ایورگرینڈ’ (Evergrande) کے بانی اور سربراہ کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے گروپ پر دو ارب ڈالر سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے بعد طویل تحقیقات کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک زمانے میں ایورگرینڈ گروپ چینی رئیل اسٹیٹ کی شان سمجھا جاتا تھا جو ملکی پراپرٹی کے عروج کے دور میں عوام کو گھر فراہم کرنے کے بڑے دعوے کرتا تھا۔ تاہم، جب حکومت نے اداروں کے حد سے زیادہ قرض لینے اور قیاس آرائیوں پر پابندیاں سخت کیں، تو کمپنی کی رسائی نئے قرضوں تک محدود ہو گئی، جس کے نتیجے میں وہ 2021ء میں اپنے قرض دہندگان کو ادایگیاں کرنے میں ناکام ہو کر بڑے مالیاتی ڈیفالٹ کا شکار ہو گئی تھی۔
جمعرات کے روز جنوبی چین کے شہر شینزین کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے اپنے آفیشل وی چیٹ اکاؤنٹ پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے ایورگرینڈ گروپ اور اس کی رئیل اسٹیٹ شاخ پر مجموعی طور پر 15.82 ارب یوان (جو کہ تقریباً 2.4 ارب ڈالر بنتے ہیں) کا جرمانہ عائد کیا۔
عدالت نے کمپنی کے 67 سالہ بانی ‘شو جیا یِن’ (حُوئی کا یان) کو بڑے پیمانے پر مالیاتی دھوکہ دہی، واجبات چھپانے اور دیگر سنگین جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ فیصلے کے تحت ان کے سیاسی حقوق تاحیات سلب کر لیے گئے ہیں اور ان کی تمام ذاتی جائیداد بھی ضبط کر لی گئی ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سال 2016ء سے 2021ء کے دوران ایورگرینڈ اور اس کے سربراہ نے ملکی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مسلسل بڑے پیمانے پر مالی جعل سازی کی، اپنے اثاثے بڑھا چڑھا کر پیش کیے اور قرض کے واجبات کو جان بوجھ کر چھپایا۔ اس کے علاوہ رشوت کے ذریعے مالیاتی اداروں پر اثرورسوخ اور کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شو اور ایورگرینڈ کی ان مجرمانہ سرگرمیوں نے چین کے سوشلسٹ مارکیٹ اقتصادی نظام اور سرکاری اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، جو کہ معاشی اور سماجی لحاظ سے انتہائی سنگین نوعیت کا نقصان تھا۔
شینزین عدالت نے ایورگرینڈ گروپ کے پانچ دیگر سینیئر ایگزیکٹوز کو بھی دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے الزامات پر چھ سال سے اٹھارہ سال تک کی قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا ‘شنہوا’ کے مطابق اس پورے اسکینڈل میں مجموعی طور پر 56 افراد کو مختلف مدت کی جیل کی سزائیں دی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ شو جیا یِن کبھی چین کے امیر ترین ارب پتیوں میں شمار ہوتے تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔
چین کے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون عمر قید ، جائداد ضبط، دو ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ

