(آصف چوہدری، ڈان نیوز لاہور)
ویسے جونیئر پولیس افسران کی کرپشن تو محکمہ پولیس بڑے فخر سے بیان کرے اپنا بنیادی فرض ادا کر کے ہاتھ جھاڑتی نظر آتی دیکھی ہو گی، سوچا اب سینئر پولیس افسران کی مبینہ واردات کو منظر عام پر لے کر آؤں اور اب تک تین بڑی خبریں دے چکا ہوں،یہ والی تیسری اور آخری خبر قابل دید ہے۔
پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ لاہور میں ہونے والی بڑے پیمانے کی کرپشن پر میری ڈان میں پہلی بریکنگ سٹوری 27 April کو چھپی تھی اور اس خبر کا impact analysis دیکھ کر لگ رہا تھا کرپشن میں ملوث پولیس افسران کا بچنا نا ممکن ہو گا
وہی ہوا میری اس خبر کی گونج وزیر اعظم اور وزیر اعلٰی سمیت تمام بڑے حکومتی حلقوں تک ایسے گونجی کہ مریم نواز کو مجبورا بڑے پیمانے پر تحقیقات کے لیئے fact finding committee بنانا پڑی،
اس کمیٹی کی خبر بھی میں نے ڈان میں بریک کی اور گزشتہ دنوں اس کمیٹی کی رپورٹ فائنل ہوئی جس میں 22 کروڑ روپے کی کرپشن ثابت ہوگئی
اس حوالے سے آج کے ڈان اخبار میں میری تفصیلی خبر میں آپ کو وہ تفصیلات ملیں گی جو صرف اور صرف ڈان میں ہی پڑھیں گے
کرپشن کس طرح، کس چالاکی سے سرانجام دی گئی، ایک ٹھیکیدار کی کتنی کمپنیاں تھیں، کیسے جعلی انسپکشن رپورٹس تیار کی گیئں، PERA کے ٹریننگ فنڈز میں کیسے گھپلے کئے گئے، کون کون سے پولیس افسران کا کیا کردار تھا آپ سر پکڑ کر بیٹھ جاہئں گے،سب سے اہم بات اس وقت کے کمانڈنٹ ڈی آئی جی پنجاب پولیس محبوب اسلم للہ اور ان کا دوسال 8 ماہ کی پوسٹنگ کے دورانیہ کا خصوصی ذکر بھی ‘قابل ذکر’ تھا جنہیں مبینہ طور پر کرپشن میں قصوروار قرار دیا گیا۔
انکوائری آفیسرز نے کمال مہارت سے رپورٹ میں موتی پروئے، خبر میں پڑھیں لکھا ہے وہاں کے ٹھیکیدار کی سرپرستی کا یہ عالم تھا اسے وہاں کے سٹاف ممبرز ٹھیکیدار کو ”ڈپٹی کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج “ کہہ کر پکارتے تھے،
جبکہ اس وقت کے کمانڈنٹ کے بارے میں لکھا ہے”Mehboob did everything in his full knowledge”
خبر کے مطابق صرف 2 کروڑ روپے کی کرپشن تو وہاں ٹریننگ کرنے والے پولیس ملازمیں کے مفت کھانے میں کی گئی جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ان بیچاروں کو سخت ٹریننگ کے دوران کس طرح کا کھانا مہیا کیا جاتا رہا،
انکوائری میں تین قسم کے الفاظ استعمال کیئے گئے
"Corruption,
forgery,
bogus paper trail”
اسی سے اندازہ لگا لیں کرپشن کے انداز دیکھ کر خود انکوائری افسران جو خود سینئر پولیس افسران ہیں کس قدر حیران و پریشان ہوں گے.
اس کی ایک اور reason بھی خبر میں دی ہے کہ انکوائری آفیسرز نے وزیر اعلٰی مریم نواز کو رپورٹ بھجواتے ہوئے سفارش کی ہے DIG کے خلاف کیسEstablishment Division اسلام آباد کو بھیج کر regular inquiry کرائیں
بات یہاں تک نہیں رکی، کیس محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب بھی بھیج دیا گیا ہے اور ملوث دیگر پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف criminal proceedings کے تحت کاروائی شروع کرنے کا بھی کہہ دیا گیا ہے
اس سکینڈل کی تین تحقیقاتی خبریں دے دیں
میرا کام مکمل ہو گیا اب سرکاری ادارے جانیں اور افسران
سلام
”پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ کرپشن اسکینڈل: 22 کروڑ روپے کی بدعنوانی بے نقاب،“ آصف چوہدری کی رپورٹ


