بادشاہ چارلس اور شہزادہ ولیم فیصلے سے مکمل لاعلم،جوڑا نجی رہائش گاہ میں رہےگا، بچے برطانوی اسکول میں داخلہ لیں گے
لندن:برطانوی میڈیا ہاؤسز (دی ٹیلی گراف اور دی سن) کی رپورٹس کے مطابق، برطانوی شاہی خاندان کے سابقہ سینئر ارکان شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل رواں ماہ کے آخر میں واپس برطانیہ منتقل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
سال 2020ء میں امریکا منتقلی اور شہزادہ ہیری کی اپنی بایوگرافی ”دی سپئیر“ کی اشاعت کے بعد یہ ان کا سب سے بڑا فیصلہ ہے، جو شاہی محل کے لیے کسی بڑے بم دھماکے سے کم نہیں۔
رپورٹس کے مطابق، یہ جوڑا اپنے دونوں بچوں، شہزادہ آرچی (عمر 7 سال) اور شہزادی للی بیٹ (عمر 5 سال) کے ساتھ لندن کے باہر ایک نجی اور غیر شاہی رہائش گاہ میں مستقل سکونت اختیار کرے گا، جبکہ بچے ستمبر سے برطانوی اسکول میں اپنی تعلیم کا آغاز کریں گے۔
برطانوی اخبارات کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے برطانوی شاہی خاندان کو شدید دھچکا لگا ہے۔ شاہی ذرائع کے مطابق، کنگ چارلس III کو اس فیصلے کا علم اتوار کے روز ہوا، جبکہ شہزادہ ہیری کے بڑے بھائی شہزادہ ولیم بھی اس اچانک منتقلی سے بالکل بے خبر تھے، اور دونوں بھائیوں کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
واضح رہے کہ اس منتقلی کی افواہیں گزشتہ ماہ ہیری اور میگن کے دورۂ برطانیہ کے بعد زور پکڑیں، جہاں بچوں کی اپنے دادا کنگ چارلس سے 2022 کے بعد پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔ تاہم، شہزادہ ہیری ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ برطانوی حکومت کی جانب سے سرکاری سکیورٹی فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے ان کا خاندان خطرے میں تھا۔ ہوم آفس کے ترجمان نے سکیورٹی کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی طویل المدتی پالیسی کے تحت حفاظتی انتظامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
یاد رہے کہ ہیری اور میگن امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے مونٹی سیٹو میں مقیم تھے، اس کے علاوہ پرتگال میں بھی ان کی جائیداد موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واپسی کے بعد برطانوی شاہی اور سیاسی حلقوں میں کیا نئی ہلچل مچتی ہے۔

