لزبن:پرتگال کے صدر نے ایک نئے قانون کی توثیق کر دی ہے جس کے تحت عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے یا شناخت چھپانے والے لباس پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس قانون کو مقامی سطح پر "برقعہ قانون” کا نام دیا گیا ہے، جس کے بارے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد خاص طور پر مسلم خواتین کو نشانہ بناتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس قانون کا بنیادی مقصد چہرے کی شناخت اور عوامی رابطے کو یقینی بنانا ہے۔ صدر انتونیو جوز سیگورو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چہرہ انسانی شناخت اور باہمی رابطے کا سب سے اہم جزو ہے۔
واضح رہے کہ اس بل کو پارلیمان سے منظور کرانے کے لیے دائیں بازو کی جماعتوں نے بھرپور کردار ادا کیا تھا جبکہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔ قانون کے تحت، کسی بھی فرد کو اس کی مرضی کے خلاف مذہب، جنس یا عمر کی بنیاد پر چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 150 سے 3,000 یورو تک جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، قانون میں طبی ضروریات، پیشہ ورانہ امور، حفاظتی تدابیر، موسم کی شدت، عبادت گاہوں، سفارتی مشنز اور ہوائی جہازوں کے اندر اس پابندی سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ حقوق نسواں کی تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ذاتی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔
پرتگال میں چہرہ چھپانے پر پابندی کا متنازع قانون منظور، مسلم خواتین نشانہ ہوں گی

