واشنگٹن:امریکی معیشت ایک انتہائی تشویشناک اور تاریخی موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں ملک کا قومی قرضہ پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی اخراجات کا ایک بڑا حصہ دفاعی اخراجات، سوشل سیکیورٹی اور میڈی کیئر جیسے سماجی پروگراموں کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے خسارے کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے۔
محض پانچ ماہ بعد امریکی قومی قرضے میں ایک ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جب رواں سال مارچ میں امریکی قرضہ 39 ٹریلین ڈالر کی سطح پر پہنچا تھا، جبکہ اس سے پانچ ماہ قبل اکتوبر میں یہ 38 ٹریلین ڈالر تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ وفاقی اخراجات میں ہونے والے فضول خرچ، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعمال کو ختم کرنے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ معاشی ترقی کو تیز کرکے امریکہ کے قرضے سے جی ڈی پی کے تناسب کو درست سمت میں لایا جا سکے۔
تاہم، ماہرینِ اقتصادیات اور معاشی تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ یہ روز افزوں بڑھتا ہوا قرضہ پہلے ہی عام امریکیوں کی جیبوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں گھروں کے قرضوں (Mortgages) اور کاروں کی خریداری کے لیے سودی لاگت بڑھ رہی ہے، کاروباری اداروں کے پاس سرمایہ کاری کے لیے رقم کم ہونے کی وجہ سے اجرتیں کم ہو رہی ہیں، اور اشیاء و خدمات مہنگی ہو رہی ہیں۔
پیٹر جی پیٹرسن فاؤنڈیشن کے سی ای او مائیکل اے پیٹرسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم آج اور آنے والی نسل کے لیے اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، تو قانون سازوں کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ ملک کو زیادہ سستی اور پائیدار معاشی راہ پر گامزن کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں جاری جنگ کے اخراجات، گیس اور روزمرہ اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کے حکومتی دعوے اور ماضی میں دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے منظور کردہ ٹیکس کٹس اور امدادی پیکجز اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔
بائی پارٹیسن پالیسی سینٹر کی صدر اور سی ای او مارگریٹ اسپیلنگز نے کہا ہے کہ وفاقی قرضہ پہلے ہی زندگی کی لاگت میں اضافہ کر رہا ہے اور دیگر سرمایہ کاری کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی وجہ سے معاشی ہلچل، ممکنہ کساد بازاری (Recession)، یا عالمی جنگ جیسے عوامل اس چیلینج کو کسی بھی وقت ایک مکمل بحران میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے حالیہ اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق، دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں امریکا کی مالیاتی پوزیشن بدترین قرار دی گئی ہے۔ بائی پارٹیسن پالیسی سینٹر کا تخمینہ ہے کہ امریکہ اگلے سال کے اوائل یا وسطِ گرما تک 41.1 ٹریلین ڈالر کی قرض کی حد تک پہنچ جائے گا، جس کے بعد کانگریس کو ایک بار پھر قرض کی حد میں اضافے یا معطلی کے لیے ووٹ دینا پڑے گا۔
محض 5 ماہ میں قرضے میں ایک ٹریلین ڈالر کا ہوشربا اضافہ، مجموعی حجم ریکارڈ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا

