غزہ:غزہ سٹی کے پورٹ ایریا میں ایک کیفے پر اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت 6 فلسطینی شہید اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی (اے اے) کے مطابق حملے کے فوراً بعد شہداء اور شدید زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے میں کم از کم دو میزائل فائر کیے گئے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے اعلان کیا کہ فوج نے منگل کو ساحلی علاقے میں ایک فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے چار کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان کے بیان کے مطابق جان سے جانے والوں میں محمد حمدی احمد المصري شامل تھے۔ انہیں اسرائیلی فوج نے القسام بریگیڈ کا کمپنی کمانڈر بتایا اور کہا کہ وہ اسرائیلی افواج پر حملوں کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مصروف تھے۔ دوسرے صامد سمير حرب ابو جبل تھے جو یونٹ میں پلاٹون کمانڈر تھا اور 7 اکتوبر کے حملے کے دوران اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے میں شامل تھے۔ محمد العطار اور محمد فتحی حسین ناصر بھی تھے تاہم، حماس کی جانب سے اسرائیل کے ان دعووں پر تحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ ڈرون حملہ گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے مبینہ سیز فائر معاہدے کی تازہ ترین خلاف ورزی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی معاہدے کی مسلسل اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 1,266 فلسطینی شہید اور 4,200 زخمی ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 73,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 174,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ سٹی کے پورٹ ایریا میں کیفے پر اسرائیلی ڈرون حملہ، بچے سمیت 6 فلسطینی شہید، 4 بریگیڈ کمانڈر حماس تھے، اسرائیل

