بانگوئی: وسطی افریقی جمہوریہ (Central African Republic) کے مغربی علاقے میں منگل کے روز سونے کی ایک روایتی کان اچانک بیٹھ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 کان کن لقمہ اجل بن گئے جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ ہولناک حادثہ نانا-مامبرے پریفیکچر کے ابا علاقے میں پیش آیا، جہاں روایتی اور کم درجے کی ٹیکنالوجی کے ذریعے سونے کی تلاش کا کام کیا جا رہا تھا۔
حادثے سے بچ جانے والے ایک مقامی کان کن فلورین گاگوئنڈے نے میڈیا کو بتایا کہ منگل کی صبح کام کے دوران کان کا بڑا حصہ اچانک دھنس گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش میں دن رات مصروف ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہایت معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
Another gold mine tragedy in Africa. At least 30 miners were killed after a gold mine collapsed in Nana-Mambéré, Central African Republic. Several others are feared trapped, with rescue operations underway. The incident comes days after a mine collapse in South Africa killed 14… pic.twitter.com/Pn25urqvVA
— V Chandramouli (@VChandramouli6) August 19, 2026
مقامی سب ڈویژن کے ڈپٹی میئر سلیمان بی نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو ورکرز اور مقامی لوگوں نے کئی گھنٹوں کی کٹھن محنت کے بعد منہدم کان سے اب تک 30 لاشیں نکال لی ہیں، جبکہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈپٹی میئر کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی المناک سانحہ ہے، اور انہوں نے تمام فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں مدد فراہم کریں تاکہ ملبے تلے پھنسے بقیہ افراد کو بھی نکالا جا سکے۔
حادثے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں جائے وقوعہ پر شدید خوف و ہراس اور افراتفری کا عالم دیکھا جا سکتا ہے۔ مٹی اور کیچڑ میں لت پت نوجوان کان کن اپنے ساتھیوں کی لاشیں باہر نکالنے میں مصروف نظر آئے، جبکہ بہت سے مزدور پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر بھاگتے ہوئے اور مدد کے لیے پکارتے دکھائی دیے۔
افریقی ممالک میں ناقص حفاظتی انتظامات اور روایتی طریقوں سے کان کنی کے باعث اس طرح کے حادثات معمول بن چکے ہیں جو آئے روز قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بنتے ہیں۔

