واشنگٹن/دی ہیگ: امریکا نے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے عالمی فوجداری عدالت (ICC) کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر اقتصادی و سفارتی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی سی سی نے چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کے لیے اقدامات کیے تھے۔
امریکی اعلیٰ حکام کے مطابق یہ تعزیتی پابندیاں عالمی فوجداری عدالت کی صدر، جاپانی جج توموکو اکانے (Tomoko Akane) اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے سینئر پراسیکیوٹر عبداللہ کے خلاف عائد کی گئی ہیں۔
امریکا کے اعلیٰ عہدیدار مارکو روبیو کے مطابق ان دونوں شخصیات نے ایسے ممالک کے حکام کے خلاف تحقیقات، گرفتاری یا قانونی چارہ جوئی کی کوششوں میں براہ راست کردار ادا کیا ہے جن کی حکومتوں نے آئی سی سی کے دائرۂ اختیار کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا۔
ان پابندیوں کے نفاذ کے بعد ان افراد کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد ہو سکتے ہیں اور امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی مکمل طور پر محدود ہو جائے گی۔ تاہم، آئی سی سی کی صدر توموکو اکانے سے متعلق بعض مخصوص مالیاتی لین دین کو 17 ستمبر تک نمٹانے کے لیے محدود مدت کی چھوٹ دی گئی ہے۔
آئی سی سی نے امریکی حکومت کے اس اقدام کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو براہ راست نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی عدالت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب قانون پر عمل درآمد کرنے والے عدالتی اہلکاروں کو دباؤ یا دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے پورا بین الاقوامی قانونی نظام شدید خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔
واضح رہے کہ سینیگال سے تعلق رکھنے والے سینئر پراسیکیوٹر عبداللہ اس پراسیکیوشن ٹیم کا ایک اہم حصہ رہے ہیں جس نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کی تھی، جسے واشنگتن کی جانب سے شروع ہی سے شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔
نتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنیکی سزا، امریکا کا بڑا فیصلہ: عالمی فوجداری عدالت (ICC) کی صدر اور سینئر پراسیکیوٹر پر سخت پابندیاں عائد،

