تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے تناظر میں، ایرانی فوجی حکام نے ایک انتہائی ہنگامہ خیز اعلان کرتے ہوئے امریکی فوجی کو ہلاک یا گرفتار کرنے والے کے لیے بھاری نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق، ایرانی فوجی سربراہ امیر حاتمی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں جنگ میں حصہ لینے اور دفاع کرنے کے خواہشمند افراد کی جانب سے موصول ہونے والی ’’متعدد درخواستوں‘‘ کے بعد کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس طرح کے کسی ممکنہ حملے یا کارروائی کے وقت اور مقام کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایرانی فوجی سربراہ نے واضح کرتے ہوئے کہا، "جو کوئی بھی حملہ آور امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا یا زندہ گرفتار کر کے فوج کے حوالے کرے گا، اسے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی طرف سے تیس ہزار ڈالر (جو کہ پانچ بلین تومان کے مساوی بنتے ہیں) انعام دیا جائے گا۔” یاد رہے کہ تومان ایران میں استعمال ہونے والی ایک غیر سرکاری کرنسی ہے جو دس ہزار ایرانی ریال کے برابر ہوتی ہے۔
اسکے ساتھ ہی فوجی سربراہ نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اگر کوئی بہادر ایرانی خاتون یہ کارنامہ انجام دیتی ہے تو اسے مقررہ انعام سے دگنی رقم دی جائے گی۔
خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کے اپنے دیرینہ اور پرانے مطالبے کو دہراتے ہوئے امیر حاتمی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اب امریکی فوجیوں کو خلیج فارس، خلیج عمان یا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی فوجی کو مارنے یا زندہ پکڑنے والے کے لیے 30 ہزار ڈالر انعام کا اعلان، خواتین کے لیے رقم دگنی ہوگی

