امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ محدود کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ بقول ان کے ’اس نے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے میں مدد سے انکار کیا ہے۔‘
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا کہ ان کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
ان کے مطابق ’جنوبی کوریا کے ساتھ رواں ہفتے شروع ہونے والی فوجی مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو بھی نامناسب بلکہ دشمنی پر مبنی پیغام دیتی ہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران نہ صرف شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریز کرتا رہا بلکہ احترام کا مظاہرہ بھی کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھ کہ اس وقت چونکہ مشقوں کو کینسل نہیں کیا جا سکتا اس لیے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو ان میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ’انہوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں شامل ہوں مگر انہوں نے جواب میں ’نہیں‘ اور ’شکریہ‘ کہا۔‘
11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے شریک ہونا ہے اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات کے مقابلے میں فوج کو مضبوط کرنا ہے۔

