صوابی (حق نواز خان): صوابی کے علاقے ٹوپی کی جامع مسجد آزاد خیل میں ایک انتہائی پروقار اور قابلِ تحسین صلح کی تقریب منعقد ہوئی، جہاں ’اتمان لویہ جرگہ ٹوپی رجسٹرڈ‘ کے مشران اور معزز عمائدین کی مخلصانہ اور مسلسل کوششوں سے دو فریقین کے درمیان ڈیڑھ سال سے چلی آرہی دشمنی بالآخر دوستی اور بھائی چارے میں تبدیل ہو گئی۔
تقریب سے اتمان لویہ جرگہ ٹوپی رجسٹرڈ کے صدر حبیب الرحمن، مولانا نیاز محمد حقانی، ممبر سلطان محمد اور صوابی پریس کلب رجسٹرڈ کے صدر سید عارف شاہ نے خصوصی خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے سے تنازعات کا خاتمہ، فریقین کے درمیان صلح کرانا اور بچھڑے ہوئے دلوں کو جوڑنا ایک عظیم دینی و سماجی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمنی اور عداوت کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں بنتی، بلکہ عفو و درگزر اور صلح ہی معاشرے میں حقیقی امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمیں اپنی ذاتی انا اور رنجشوں کو پسِ پشت ڈال کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرامن اور محفوظ معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان تقریباً ڈیڑھ سال قبل دشمنی کا آغاز ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دو نوجوان شدید زخمی ہوئے تھے اور معاملہ اسپتال کے چکروں سے ہوتا ہوا عدالتوں (کچہری) تک جا پہنچا تھا۔ تاہم، اتمان لویہ جرگہ کے مشران بشمول سلطان محمد ممبر، شاہ فیصل اور ساجد کی دن رات کی محنت، باہمی مذاکرات اور مخلصانہ جرگوں کے باعث دونوں فریقین کو ایک میز پر لایا گیا، جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔
صلح کی اس تقریب میں ایک فریق کی طرف سے سلیم بہادر، جاوید بہادر، آصف، بلال، محسن، زرولی خان، حمزہ، ذیشان، عباس اور کوٹھا کے نور حسین جبکہ دوسرے فریق کی جانب سے محمد ارشد، بابر علی، عبدالمصور، محمد ناصر اور دیگر افراد نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کے دوران دونوں فریقین نے اقرآنِ مجید پر حلف اٹھایا اور باضابطہ اعلان کیا کہ آج کے بعد ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی کدورت، رنجش یا بدگمانی باقی نہیں رہی۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے ذاتی مفاد یا شرط کے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کو مکمل طور پر معاف کر دیا اور باہم بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے کا پختہ عہد کیا۔
تقریب کے آخر میں دونوں فریقین نے روایتی انداز میں ایک دوسرے کو گلے لگایا، تمام پرانے گلے شکوے مٹائے اور باہمی محبت، اخوت اور پائیدار امن کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ یہ شاندار صلح اس بات کا ثبوت ہے کہ روایتی جرگہ سسٹم اور باہمی گفت و شنید پیچیدہ سے پیچیدہ تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی سب سے بہترین طاقت ہے۔
صوابی میں جرگے کی بڑی کامیابی: ڈیڑھ سالہ خونریز دشمنی دوستی میں بدل گئی،

