صوابی (حق نواز خان): تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شامل ’سانحہ بابڑہ‘ کو 78 سال گزر جانے کے باوجود شہداء کے لواحقین اور پختون قوم آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔ اس حوالے سے صوابی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی اور مقامی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ بابڑہ کے معصوم اور نہتے شہداء کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔
تقریب سے خطاب کرنے والوں میں سابق سینئر نائب صدر اے این پی و سابق تحصیل رزڑ ناظم غلام حقانی، جنرل سیکرٹری نواب زادہ، پروفیسر نورالامین یوسفزئی، شاہد خان ایڈووکیٹ، نائب صدر سعید خان اور سابق امیدوار سہیل احمد شامل تھے۔
رہنماؤں نے اپنے خطاب میں کہا کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد 12 اگست 1948 کو محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایک منتخب حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا اور بابڑہ کے مقام پر پرامن احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ اس المناک اجتماع میں خواتین اپنے سروں پر قرآنِ پاک اٹھائے ہوئے تھیں اور معصوم بچے بھی موجود تھے، جنہیں ریاستی طاقت کا نشانہ بنایا گیا۔
سابق سینیٹر غلام حقانی نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان کی طرف سے یہ جھوٹا جواز پیش کیا گیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر پشاور نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، تاہم بعد ازاں یہ مؤقف مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوا کیونکہ کمشنر پشاور نے خود دفعہ 144 کے نفاذ سے صاف انکار کیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قانوناً دفعہ 144 نافذ ہی نہیں تھی، تو پرامن شہریوں پر سفاکانہ طاقت کے استعمال کا کیا جواز بنتا تھا؟
رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سانحہ بابڑہ کے خلاف اگرچہ ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی، مگر 78 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس پر کوئی مؤثر قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور شہداء کے خاندان انصاف کے لیے دربدر ہیں۔
تقریب کے اختتام پر مقررین اور شرکاء نے شہدائے بابڑہ کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اے این پی کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی بانی باچا خان کے فلسفۂ عدم تشدد، امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے شہداء کے حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے اپنی آئینی اور سیاسی جدوجہد ہرگز ترک نہیں کرے گی۔
سانحہ بابڑہ کو 78 سال بیت گئے: شہداء کے خون کو آج تک انصاف نہ مل سکا، اے این پی کے رہنماؤں کا انصاف مطالبہ

