بیروت: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملے 20 جون کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد ہونے والے خونریز ترین حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان کے گاؤں انصار کے مضافات میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
دوسرا فضائی حملہ دیر الظہرانی نامی گاؤں میں کیا گیا جہاں دو افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور لبنانی حکومت نے 26 جون کو ایک ’فریم ورک معاہدے‘ کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور ایران نواز حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔
معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں کسی ممکنہ امن معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک اسرائیل کے قیام کے تقریباً 80 سال بعد بھی تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔
حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے انکار کیا تھا اور وہ اس معاہدے کا فریق بھی نہیں تھی۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ’اپنے گھروں میں موجود شہریوں کو خوفزدہ‘ کرتی ہیں اور جنوب کی صورتحال کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
نواف سلام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’انصار پر اسرائیلی فضائی حملے میں مارے جانے والے سات افراد کسی فوجی تنصیب کا حصہ نہیں تھے اور مرنے والے بچے اور خواتین فوجی اہداف نہیں تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ لبنان میں کسی بھی فوجی تنصیب سے نمٹنا لبنانی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
لبنانی وزیراعظم نے کہا کہ ’اسرائیل کو یہ کشیدگی روکنی چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی عوام کی سلامتی اور اپنی سرزمین پر زندگی گزارنے کا ان کا حق ’مذاکرات یا سودے بازی کا موضوع نہیں‘ ہے۔

