واشنگٹن : ایران کے ساتھ جاری جنگ اور سمندر میں ریکارڈ 260 سے زائد دن گزارنے والے امریکی ائیرکرافٹ کیریئر ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کے عملے کو درپیش سنگین مسائل اور شدید ذہنی دباؤ کے پیش نظر، بحریہ نے ایک اور بڑا بحری جہاز ‘یو ایس ایس جارج واشنگٹن’ (USS George Washington) مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
سمندر میں انسانی المیہ: طویل تعیناتی، یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے میں خودکشی کی کوششیں، دی گارجین
رپورٹس کے مطابق پیسیفک سے تعلق رکھنے والا ائیرکرافٹ کیریئر جارج واشنگٹن گزشتہ ہفتے ویتنام کے بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا، جو اب آبنائے ملاکا سے گزرتے ہوئے بھارتی سمندر اور پھر مشرق وسطیٰ کی جانب گامزن ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز طویل عرصے سے محاذ پر موجود ‘ابراہم لنکن’ کی جگہ سنبھالے گا۔
‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کا یہ طویل ترین مشن گزشتہ سال 21 نومبر کو شروع ہوا تھا اور جنوری میں مشرق وسطیٰ پہنچنے کے بعد یہ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بنا۔ مسلسل محاذ پر رہنے اور جنگی ماحول کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے پر جہاز پر عملے کو خوراک، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی قلت کا سامنا کرنا پڑا، جس پر ڈیموکریٹک قانون سازوں نے پینٹاگون سے کڑے سوالات کیے ہیں۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہاز کے حالات سے متعلق خبروں کو "مسترد” کرتے ہوئے کہا کہ عملے کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور وہ ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم، عملے کے ارکان کے اہل خانہ اور کانگریس کے اراکین نے بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور خراب حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ بحریہ کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد طویل تعیناتی کا شکار ہونے والے فوجیوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
تھکے ماندے ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کی جگہ نیا ائیرکرافٹ کیریئر ‘یو ایس ایس جارج واشنگٹن’ روانہ!

