واشنگٹن ڈی سی :ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے امریکا کا فخر سمجھے جانے والے 45 ‘ریپر ڈرونز’ تباہ یا گم ہو گئے۔
معتبر امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے دوران امریکی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور امریکہ اپنے کم از کم 45 جدید ’ایم کیو-9 ریپر‘ (MQ-9 Reaper) سرویلینس اور سٹرائک ڈرونز سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تباہ یا گم ہونے والے ان ڈرونز کی یہ تعداد امریکی فوج کے کل بیڑے کا تقریباً 25 فیصد بنتی ہے، جن کی مالیت تقریباً 1.3 بلین ڈالر (130 کروڑ ڈالر) بنتی ہے۔ اخبار نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان تمام ڈرونز کو دشمن کی جانب سے مار گرایا نہیں گیا بلکہ کچھ ڈرونز کمیونیکیشن لنکس فیل ہونے کی وجہ سے حادثات کا شکار ہو کر کریش ہو گئے۔
جنگ شروع ہونے سے قبل امریکی فوجی بیڑے میں کل 185 ریپر ڈرونز موجود تھے (جن میں سے 165 فضائیہ اور 20 میرین کور کے پاس تھے)۔ تاہم مئی میں پینٹاگون کے سینئر اہلکار لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ تبور نے سینیٹ کو آگاہ کیا تھا کہ اب ان ڈرونز کی تعداد گھٹ کر صرف 135 کے قریب رہ گئی ہے۔
”بھارت بھی ’ایم کیو-9 ریپر‘ (MQ-9 Reaper) کا خریدار“
واضح رہے کہ سال 2007 میں امریکی فوج کا حصہ بننے والے یہ ریپر ڈرونز مشرق وسطیٰ، افغانستان اور عراق کے تنازعات میں امریکی کارروائیوں کا کلیدی حصہ رہے ہیں۔ اس نقصان کو امریکی ٹیکس دہندگان پر ایک بہت بڑا مالی بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، بھارت نے بھی 2024 میں ایسے ہی 31 ڈرونز کی خریداری کے لیے امریکہ سے معاہدہ کیا ہے جن کی ترسیل 2029 تک متوقع ہے۔

