واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک نیا اور سنگین قانونی محاذ کھل گیا ہے۔ معروف امریکی میڈیا اداروں ’دی انٹرسیپٹ‘ اور ’فریڈم آف دی پریس فاؤنڈیشن‘ نے مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں صدر ٹرمپ کے خلاف ایک سنسنی خیز مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں ’ٹروتھ سوشل‘ کی اس نئی اور متنازعہ سروس کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو مالدار صارفین اور وال سٹریٹ کے سرمایہ کاروں کو صدر کی پوسٹس تک عام عوام سے پہلے ’پیشگی رسائی‘ کے عوض بھاری رقوم وصول کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ’ٹروتھ اے پی آئی‘ کے نام سے شروع کی گئی اس سروس کا ماہانہ سبسکرپشن پلان ایک لاکھ ڈالر تک رکھا گیا ہے، جس کے ذریعے خود صدر ٹرمپ سمیت وائٹ ہاؤس کے 10 اہم ترین اکاؤنٹس (جن میں نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں) کی پوسٹس عام صارفین سے پہلے حاصل کی جاتی ہیں۔
عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں اس سروس کو "انتہائی بدعنوان” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس سے ملکی مالیاتی منڈیوں کی شفافیت تباہ ہو رہی ہے اور اس کے ذریعے براہِ راست صدر ٹرمپ کو ذاتی مالی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جو کہ کمپنی میں 41 فیصد سے زائد کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔ درخواست گزاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ قدم آئین کی پہلی ترمیم کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ تمام شہریوں کو ملک کے صدر کے سرکاری اعلانات تک یکساں رسائی کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
دوسری جانب، ٹرمپ میڈیا کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ صدر کی معلومات پہلے ہی مختلف پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوتی ہیں، اور بائیں بازو کے کارکن عدالتوں کو ہتھیار بنا کر کمپنی اور شیئر ہولڈرز کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اس ہائی پروفائل مقدمے نے واشنگٹن کے سیاسی و معاشی حلقوں میں طوفان برپا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے قبل سینیٹرز بھی اس کی تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کی نئی سروس عدالتی کٹہرے میں: میڈیا اداروں کا ’ٹروتھ سوشل‘ کے خلاف عدالت سے رجوع، کروڑوں کمائی کو چیلنج!

