واشنگٹن: برطانوی اخبار ‘دی گارجین’ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث طویل ترین سمندری تعیناتی کا شکار امریکی جنگی بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ کے عملے میں ذہنی تناؤ اور خراب حالات کے باعث شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، اور عملے کے ارکان کی جانب سے سمندر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوششوں کے دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
The USS Abraham Lincoln has been deployed since November 21 with about 5,000 sailors and Marines, past a May end date and now more than eight months at sea. Families told MS NOW that several sailors have tried to go overboard.
The Navy has not announced a return date, citing… pic.twitter.com/bus1nd0DO0
— GrumpyChineseGuy (@neilzsg) August 13, 2026
جہاز پر سوار 5,000 سے زائد سیلرز اور میرینز بغیر کسی زمینی وقفے کے ریکارڈ 250 دن سمندر میں گزار چکے ہیں، جو جدید دور میں کسی بھی ائیرکرافٹ کیریئر کے لیے ایک طویل ترین عرصہ ہے۔ خاندانوں اور کانگریس کے اراکین نے انکشاف کیا ہے کہ خراب کھانوں، ٹوٹے ہوئے بیت الخلاء، گرم پانی کی عدم دستیابی اور مسلسل توسیع کے باعث عملے کی ذہنی صحت تباہ ہو چکی ہے۔ سان ڈیاگو میں ہونے والے ایک جذباتی ٹاؤن ہال اجلاس کے دوران پریشان حال خاندانوں نے انکشاف کیا کہ ان کے پیاروں نے پیغامات میں یہاں تک لکھا کہ "وہ نہیں چاہتے کہ وہ اگلی صبح زندہ اٹھیں”۔
🚨🇮🇷🇺🇸 Text messages from a sailor aboard the USS Abraham Lincoln reveal no milk in three months and ROTTEN food arriving at sea…
He reportedly wrote that almost nothing fresh makes it out except meat, because only frozen goods survive the supply run, and called it the worst… pic.twitter.com/ylCgsHap26
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) August 13, 2026
دوسری جانب، امریکی بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ عملے اور ان کے خاندانوں کو درپیش دباؤ سے بخوبی آگاہ ہیں اور جہاز پر تمام طبی و نفسیاتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ عملے میں خودکشی کے رجحان میں اضافے کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم، کانگریس کے اراکین نے پینٹاگون اور وزیرِ دفاع کی جانب سے اس بحران پر مبینہ غفلت اور خراب حالات کو جھوٹ قرار دینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

