لاہور (بے نقاب نیوز)
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے دفتر سے چند منٹ کی مسافت پر واقع محلہ سمیاں میں بھاٹی گیٹ پولیس کے ایک ڈرائیور عرفان نے گزشتہ رات مبینہ طور پر شہد کے نشے میں دھت ہو کر محلہ سمیاں کے رہائیشیوں اور پولیس اہلکاروں کو گالیاں دینے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کےمطابق موقع پر موجود دیگر اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پاتے ہوئے ڈرائیور کو تھانے منتقل کیا، تاہم واقعے کی ویڈیو افسران تک پہنچنے پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نشے میں دھت ڈرائیور عرفان کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کرنے کا حکم دیا، جبکہ محرر بلال کو معطل کر کے کلوز لائن کر دیا گیا ہے۔ وردی کی اصل عزت صرف شہریوں کو قانون کا پابند بنانے میں نہیں، بلکہ قانون کے محافظوں کا خود کو بھی آئین و قانون کے تابع رکھنا ہے۔ اگر قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ہی ڈیوٹی کے دوران نشے کی حالت میں ہوں تو عام شہری اپنی حفاظت اور انصاف کے لیے کس پر اعتماد کریں گے؟ سابق آئی جی پنجاب کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے ڈوپ ٹیسٹ کرانے کی پالیسی کا بنیادی مقصد فورس کو جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل فٹ رکھنا تھا۔ تاہم، اگر احتساب کا دائرہ کار صرف ماتحت اہلکاروں تک محدود رہے اور اعلیٰ افسران کے معاملے میں لچک دکھائی جائے تو ایسی اصلاحاتی پالیسیاں اپنی افادیت اور ساکھ کھو دیتی ہیں۔
بلاامتیاز احتساب کی اشد ضرورت ہے یہ پنجاب پولیس کے اندرونی احتسابی نظام کا ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر محکمے کا کوئی اہلکار اپنے ہی ساتھی کی بے ضابطگی اور قانون شکنی کا ثبوت محفوظ کر کے اعلیٰ حکام تک پہنچاتا ہے، تو یہی شفافیت پورے محکمے میں ادارہ جاتی احتساب کی بنیاد بن سکتی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ڈسپلن اور قانون کے نفاذ کا معیار رینک دیکھ کر تبدیل نہ ہو۔ اگر ڈوپ ٹیسٹ کی پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے تو بلاامتیاز تمام رینکس کے افسران و اہلکاروں کا یکساں ٹیسٹ ہونا چاہیے تاکہ جرم ثابت ہونے پر وردی کسی کے لیے ڈھال نہ بن سکے۔ پولیس بطور محافظ اسی وقت عوام کا اعتماد بحال کر سکتی ہے جب وہ خود کو بھی قانون کے سامنے برابر کا جواب دہ بنائے۔

