بلوچستان رحمت اللہ بلوچ بیوروچیف بلوچستان)
ٹیچنگ ہسپتال خضدار کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شبیر احمد مینگل نے کہا ہے کہ ہسپتال کو درپیش بنیادی مسائل کے حل اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔ پانی کی قلت، پارکنگ، صفائی، ایمرجنسی، اسٹاف کی حاضری، گائنی و ڈلیوری سروسز، این آئی سی یو، تھیلیسیمیا سینٹر اور ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج سمیت مختلف شعبوں میں بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں ڈاکٹر شبیر احمد مینگل کے مطابق ہسپتال کا پرانا بور خراب ہونے کے باعث پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس وقت روزانہ پانچ سے چھ پانی کے ٹینکر باہر سے منگوائے جا رہے ہیں، جس سے ہسپتال کے وسائل پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے بور کی فوری ضرورت ہے، جس کے لیے ڈپٹی کمشنر خضدار کی جانب سے جلد کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے باہر باقاعدہ پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ ہسپتال کے اندر غیر ضروری ٹریفک کو محدود کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں، جس سے صفائی اور انتظامی امور میں بہتری آئے گی اسٹاف کی حاضری اور سروس ڈیلیوری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ غیر حاضر عملے کو ڈیوٹی پر واپس بلایا گیا ہے ایم ایس نے بتایا کہ ایمرجنسی سروس میں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، ادویات اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ شدید گرمی کے پیش نظر ایمرجنسی وارڈ میں ایئر کنڈیشننگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ تاہم شام اور رات کے اوقات میں ایمرجنسی سروسز کو مزید مؤثر اور مکمل طور پر فعال بنانے کی ضرورت ہے ڈاکٹر شبیر احمد مینگل نے کہا کہ زچہ و بچہ کی سہولیات آبادی کے تناسب سے ناکافی ہیں اور اس وقت ہسپتال میں صرف دو ڈلیوری ٹیبلز موجود ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، سیاسی نمائندوں اور خصوصاً ایم پی اے خضدار کے تعاون سے آٹھ سے دس ڈلیوری ٹیبلز پر مشتمل جدید ڈلیوری ہال کے قیام کی کوششیں جاری ہیں، جس سے خواتین کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں این آئی سی یو وارڈ کی مشینری موجود ہے، جسے بہت جلد فعال کر دیا جائے گا این آئی سی یو کے فعال ہونے سے نوزائیدہ اور تشویشناک حالت میں موجود بچوں کو بہتر اور بروقت طبی نگہداشت کی سہولت میسر آئے گی انہوں نے مزید کہا کہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے الگ سینٹر کے قیام پر بھی کام کیا جا رہا ہے، تاکہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کو خون کی منتقلی اور دیگر ضروری طبی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں ایم ایس نے بتایا کہ ہسپتال میں ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج کا نظام دوبارہ فعال کرنے کے لیے میڈیکل اسٹور کی تعمیر جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ بیس روز میں یہ نظام فعال ہو جائے گا۔ اس کے بعد سرجری سمیت مختلف طبی سہولیات ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت فراہم کی جا سکیں گی انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال کی مارچری میں نصب چاروں ایئر کنڈیشنرز خراب ہیں، جن کی مرمت سمیت دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی مرحلہ وار اقدامات جاری ہیں ڈاکٹر شبیر احمد مینگل کا کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے عوام کو ان کے اپنے شہر میں معیاری، بروقت اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ہسپتال میں موجود مسائل کو مرحلہ وار حل کرتے ہوئے مریضوں اور ان کے لواحقین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔

