لاہور: آج کل مارکیٹ طرح طرح کی پروٹین مصنوعات اور سپلیمنٹس سے بھری پڑی ہے۔ اگرچہ پروٹین انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن اس کا اندھا دھند اور ضرورت سے زیادہ استعمال جسم کے لیے شدید نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرینِ غذائیت اور ڈاکٹروں نے نوجوانوں میں پروٹین سپلیمنٹس اور ہائی پروٹین پیکڈ فوڈز پر انحصار بڑھنے کے خطرناک رجحان سے خبردار کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو صحت مند بالغ افراد متوازن غذا کا استعمال کرتے ہیں، انہیں مہنگے پروٹین سپلیمنٹس یا پروسس شدہ پروٹین کھانوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
سائنسی مطالعات اور ’آٹوفوگی‘ کا عمل:
روبی ہال کلینک کے مطابق، حالیہ سائنسی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پروٹین کی کم مقدار جسم کی ’قدرتی صفائی اور مرمت‘ کے نظام کو متحرک کرتی ہے، جو صحت مند انداز میں عمر بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اگست 2026 میں ’سیل پریس جرنل‘ میں شائع ہونے والے ایک بڑے سائنسی جائزے میں 350 سے زائد مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ جب جسم میں پروٹین (خصوصاً بعض امینو ایسڈز) کی سطح کم ہوتی ہے، تو خلیے ’نشوونما کے موڈ‘ سے نکل کر ’تحفظ اور مرمت کے موڈ‘ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ سائنسی زبان میں اس حیرت انگیز عمل کو ’آٹوفوگی‘ (Autophagy) کہا جاتا ہے، جس کے دوران خلیے اپنے ہی تباہ شدہ اور زائد اجزاء کو صاف کر کے جسم کو تندرست رکھتے ہیں۔
جسمانی ضرورت اور طرز زندگی:
ماہرین کا کہنا ہے کہ پروٹین کی مقدار کم یا زیادہ کرنے سے پہلے اپنے طرز زندگی اور جسمانی سرگرمیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ضرورت سے زیادہ پروٹین جسم کو کوئی اضافی فائدہ نہیں دیتا، بلکہ الٹا نظامِ انہضام (ہاضمہ) اور گردوں پر شدید دباؤ بڑھا دیتا ہے۔
سست طرز زندگی والے افراد:
جو لوگ سارا دن ڈیسک پر گزارتے ہیں اور باقاعدہ ورزش نہیں کرتے، انہیں زیادہ پروٹین کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسے افراد کے لیے فی کلوگرام جسمانی وزن کے حساب سے 0.8 سے 1 گرام پروٹین کافی ہے۔
ورزش کرنے والے افراد:
اس کے برعکس جو لوگ ہفتے میں پانچ دن ویٹ لفٹنگ اور سخت ورزش کرتے ہیں، انہیں زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔
موٹاپے اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مقدار:
ماہر غذائیت کے مطابق موٹاپے اور ذیابیطس کے شکار مریضوں کے لیے پروٹین کی محفوظ اور مؤثر مقدار روزانہ فی کلوگرام جسمانی وزن کا 1.0 سے 1.5 گرام (یا کل توانائی کا 20 سے 30 فیصد) ہوتی ہے۔ پروٹین کا یہ اعتدال پسند استعمال بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور وزن گھٹانے کے دوران پٹھوں کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
نقصانات اور احتیاطی تدابیر:
زیادہ پروٹین والی خوراک اس وقت صحت کے لیے نقصان دہ بن جاتی ہے جب اس میں فائبر، تازہ پھلوں، سبزیوں اور ثابت اناج کی کمی ہو یا صرف پروسس شدہ گوشت پر انحصار کیا جائے۔ اس کے علاوہ گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کو اپنی خوراک میں پروٹین کی درست مقدار کے لیے ہمیشہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

