ریاض+لندن: بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن معاہدے کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات اور خطے میں دو بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ تاہم، امریکی خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے کی اطلاعات نے قیمتوں میں مزید بے لگام اضافے کو کسی حد تک روک لیا ہے۔
قیمتوں کی موجودہ صورتحال:
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کے فیوچر (Brent crude futures) میں 72 سینٹ یا 0.81 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 89.63 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 71 سینٹ یا 0.85 فیصد بڑھ کر 83.91 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئی۔ یاد رہے کہ دونوں عالمی بینچ مارکس گزشتہ روز (منگل کو) بھی ایک ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے جو کہ 31 جولائی کے بعد ان کی ترین بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹس کے مطابق 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 91 لاکھ بیرل کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے برعکس پٹرول کے ذخائر میں 15 لاکھ بیرل جبکہ ڈیزل اور دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں تقریباً 5 لاکھ 96 ہزار بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی محکمہ توانائی کے ادارے (EIA) کے سرکاری اعداد و شمار بھی اس اضافے کی تصدیق کرتے ہیں، تو اس سے عالمی منڈی میں سپلائی کی کمی کے بارے میں پائے جانے والے خدشات میں کچھ کمی آ سکتی ہے۔
دریں اثنا، انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) نے اپنی طویل مدتی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے تیل کی فراہمی میں روزانہ تقریباً 6 لاکھ بیرل کی رکاوٹ کا یہ سلسلہ سال 2027 کے اختتام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

