اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وفد میں شامل ہوں گے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ دورے کے دوران دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزراتِ خارجہ کے ترجمان نے ہکہا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور معاملات کو معمول پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان کے مطابق سلطنتِ عمان بھی اس سلسلے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہی ہے، جسے پاکستان قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات متوقع ہے، جس میں علاقائی صورت حال اور دونوں ملکوں کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کے علاوہ خطے میں دونوں ممالک کے باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزراتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اس دورے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان خلیج میں جاری کشیدگی کے خاتمہ کے لیے پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔‘
’آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات میں عمان نے امن اور استحکام کے لیے جو کردار ادا کیا پاکستان اس کی بہت قدر کرتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’تین اگست کو پاکستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے فوج پر علاقائی صوتحال پر بات کی۔ انھوں نے ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطین 1967 سے پہلے کی سرحدوں کا حامی ہے اور اس مسئلے کا تمام عرب ممالک کے ساتھ مل کر حل تلاش کرنے کے حق میں ہے۔انھوں نے کہا کہ ’پاکستان فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے حق کا حامی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر آج سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر روانہ ہوں گے

