واشنگٹن ڈی سی :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جاری خونریز کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم ترین قدم اٹھاتے ہوئے حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے سے متعلق ایک تاریخی معاہدے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ‘بورڈ آف پیس’ نے حماس کے تمام ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے اور خطے کو اسلحے سے پاک کرنے کا لائحہ عمل طے کر لیا ہے۔ یہ عمل مرحلہ وار اور انتہائی محتاط انداز میں مکمل کیا جائے گا۔
🚨 HUGE & HISTORIC: President Trump announces complete disarmament of Hamas and all armed groups in Gaza. A major breakthrough for lasting peace and security! Something many said could never be achieved!
"Today, the Board of Peace reached a HISTORIC agreement for the COMPLETE… pic.twitter.com/EgJodU5TQh
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) July 30, 2026
معاہدے کے تحت جیسے ہی غیر مسلح کرنے کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچے گا، اسرائیلی افواج غزہ سے مکمل طور پر واپس چلی جائیں گی۔ اس کے بعد ایک بین الاقوامی سٹیبلائزیشن فورس، نئی تشکیل پانے والی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر غزہ کے شہریوں اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
مصری میڈیا کے مطابق امریکہ، قطر اور ترکی کے ثالث بہت جلد قاہرہ میں ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں 20 نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مرحلے میں حماس کے ہتھیاروں کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا تدریجی انخلا اور غزہ کے امور چلانے کے لیے فلسطینی ماہرین پر مشتمل ‘نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ’ کی تشکیل شامل ہے۔
دوسری جانب اعلیٰ اسرائیلی سیاسی حلقوں کی طرف سے تاحال سخت گیر مؤقف برقرار ہے، جن کا کہنا ہے کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اور غزہ کو اسلحے سے مکمل پاک کرنا کسی بھی آئندہ سمجھوتے کے لیے ان کی اولین اور بنیادی شرط ہے۔

