واشنگٹن ڈی سی : ایران سے نمٹنے کے لائحہ عمل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں اور اعلیٰ ترین مشیران کے درمیان اختلاف رائے ، تنازع کھل کر سامنے آگیا۔
وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر بالکل متفق نہیں ہو پا رہی کہ اصل ہدف کیا ہونا چاہیے—آیا ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنا ہے، آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے یا پھر ایران کے میزائل ذخیرہ کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے؟ جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس devil and deep sea صورت حال میں پھنس کررہ گئے ہیں۔
وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ (جنگی جنون کے حامی):
ہیگسیتھ اس وقت طاقت کے استعمال کے لیے سب سے بلند آواز حامی بنے ہوئے ہیں۔ وہ ایڈمرل کوپر کی اس تجویز کی پُرزور حمایت کر رہے ہیں جس کے تحت 10 سے 14 دن کی سخت ترین فضائی مہم چلا کر ایران کے میزائل سسٹمز کو تہس نہس کردیا جائے۔ یادرہے تاحال بمباری سے تہران کے رویے میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ۔
جنرل کین (چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف – جنگ مخالف):
دوسری طرف جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل کین اس مہم کے راستے میں رکاوٹ (بریک) بنے ہوئے ہیں۔ وہ صدر ٹرمپ کو اس فوجی مہم کے دوسرے اور تیسرے درجے کے خطرناک نتائج سے آگاہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر حملے کرنے سے امریکی فوج کے پاس دنیا بھر میں اپنے اڈوں اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے پیٹریاٹ (Patriot) اور تھاد (THAAD) میزائلوں کے ذخائر کم پڑ جائیں گے۔ انہوں نے ایران جنگ پر شدید تحفظات ظاہر کئیے ہیں۔
مارکو روبیو (محکمہ خارجہ – سفارت کاری اور دفاعی جنگ کا بیانیہ):
محکمہ خارجہ کے سربراہ مارکو روبیو نے فی الحال سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ وہ بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ اب بھی امن اور سفارت کاری کے لیے پرعزم ہے، بشرطیکہ ایران سنجیدہ رویہ اختیار کرے۔ وہ اس ممکنہ جنگ کو دنیا بھر کے بحری راستوں اور نیویگیشن کے قوانین کے دفاع کے طور پر پیش کر رہے ہیں جن پر پوری دنیا کا انحصار ہے۔
جے ڈی وینس (نائب صدر/قریبی مشیر – سفارتی راہ کے حامی):
نائب صدر جے ڈی وینس نے نجی محفلوں میں ہمیشہ سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے جنرل کین کے ساتھ مل کر یہ سخت سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلی تو اس کا حتمی نتیجہ یا مقصد کیا ہوگا؟ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ جو بھی حتمی فیصلہ کریں گے، وہ اس کی بھرپور حمایت کریں گے۔
ان تمام متضاد مشوروں کے درمیان صدر ٹرمپ خود ان تمام آراء کے درمیان جھول رہے ہیں۔ ایک ہی دن میں وہ ایک طرف تو انتہائی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے دھمکی دیتے ہیں کہ "ہم انہیں بہت بری طرح پیٹیں گے”، تو دوسری ہی سانس میں یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ "ہم انہیں مزید بات چیت کا موقع دیں گے”۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق، صدر ٹرمپ اس وقت "شدید جارحانہ موڈ” میں ہیں، لیکن وہ اب بھی اندر ہی اندر تول رہے ہیں کہ اس کارروائی میں کتنا آگے جانا چاہئے۔
مختصر یہ کہ امریکی پالیسی سازوں میں اب تک کوئی ایک رائے قائم نہیں ہو سکی، اور بغیر کسی منزل یا اختتامی منصوبے کے یہ کشمکش خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔

