نیویارک: امریکا کی ایک عدالت نے سال 2022 میں معروف مصنف ملعون سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص کو وفاقی دہشت گردی کے سنگین الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ ملعون سلمان رشدی کو ان کے متنازع ناول کی وجہ سے طویل عرصے سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک مقامی جیوری نے چند گھنٹوں کی طویل غور و خوض کے بعد ملزم ہادی مطر کو تمام الزامات میں قصوروار ٹھہرایا ہے، جن میں بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث ہونا بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ اگست 2022 میں ملعون سلمان رشدی جب نیویارک میں مصنفین کی سکیورٹی کے موضوع پر ایک تقریب میں خطاب کرنے والے تھے، تو اس دوران سٹیج پر ہی ملزم نے ان پر چاقو سے 15 پے در پے وار کیے، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا اور ایک آنکھ کی بینائی بھی ضائع ہو گئی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ہادی مطر ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کے اس تاریخی فتویٰ سے شدید متاثر تھا جو انہوں نے 1989 میں جاری کیا تھا، اور جس میں ملعون سلمان رشدی کی موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
دفاعی وکلاء کا مؤقف تھا کہ حکومت کے پاس ملزم کے مجرمانہ اور ذہنی ارادوں کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، جبکہ خود ہادی مطر نے بھی عدالت میں گواہی دینے سے گریز کیا۔ اس سے قبل 28 سالہ ہادی مطر نیویارک کی ریاستی عدالت میں اقدامِ قتل کے جرم میں پہلے ہی 25 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے، اور اب وفاقی عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد اسے عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یادرہے برطانوی نژاد مصنف ملعون سلمان رشدی نے 1981 میں اپنے مشہور زمانہ ناول ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ پر برطانیہ کا معروف بوکر انعام حاصل کیا تھا۔ ان کا تنازع میں گھرا ناول 1988 میں شائع ہوا تھا، جسے مغربی ممالک میں تو پذیرائی ملی لیکن دنیا بھر کے مسلم حلقوں میں اسے انتہائی توہین آمیز قرار دیا گیا۔ اس کتاب کے خلاف ہونے والے شدید احتجاج اور ہنگاموں کے دوران مختلف ممالک میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے جاپانی مترجم کو قتل اور دیگر مترجمین و ناشرین کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ملعون سلمان رشدی پر حملہ کیس : امریکی عدالت نے ملزم ہادی مطر کو دہشت گردی کا مجرم قرار دے دیا

