نیروبی/مانڈیرا:صومالیہ کی سرحد کے قریب کینیا کے ضلع مانڈیرا میں مشتبہ شدت پسند تنظیم ’الشباب‘ کے جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی ایک شدید جھڑپ میں پانچ کینیائی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ الشباب طویل عرصے سے صومالیہ کی مرکزی حکومت کا تختہ الٹنے اور اپنے سخت گیر شریعت کے نظریے پر مبنی نظام نافذ کرنے کے لیے مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ منگل کو دوپہر کے وقت پیش آیا، جب سپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) الونگو کی گشتی ٹیم کا وانتے ڈیم کے علاقے میں الشباب کے مسلح جنگجوؤں کے ساتھ آمنا سامنا ہو گیا۔ فائرنگ کے اس تبادلے اور جھڑپ کے بعد علاقے میں شدت پسندوں کی تلاش اور ان کا تعاقب کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں بھیجی جانے والی کمک (ری انفورسمنٹ) کی ایک ٹیم کی گاڑی راستے میں نصب بارودی سرنگ (آئی ای ڈی) سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں ایک بکتر بند گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی، تاہم خوش قسمتی سے اس دوسرے دھماکے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
الشباب تنظیم اس سرحدی خطے میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو اکثر اپنے حملوں کا نشانہ بناتی رہتی ہے۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق اس سے قبل رواں سال جنوری میں بھی اسی تنظیم نے قریبی ضلع گاریسا میں کارروائی کرتے ہوئے ایک مقامی سربراہ اور ایک استاد کو قتل کر دیا تھا۔
کینیا میں الشباب کے ساتھ خونریز جھڑپ:شدت پسندوں کے حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکار جاں بحق

