پٹنہ / نئی دہلی:نئی دہلی کے پارلیمنٹ ہاؤس مارچ کے بعد اب بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں بھی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ بدھ کے روز بائیں بازو کی طلبا تنظیم ’آل انڈیا اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن‘ (آئیسا) کی جانب سے نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے راج بھون (گورنر ہاؤس) کی طرف ایک بڑا احتجاجی مارچ ہوا۔ اس احتجاج کے دوران پٹنہ کے گاندھی میدان کے قریب پولیس اور طلبا کے درمیان شدید تصادم دیکھنے میں آیا۔
مظاہرین جب راج بھون کی جانب بڑھ رہے تھے تو پولیس نے ہوٹل موریہ کے پاس بیریکیڈنگ لگا کر انھیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران طلبا اور پولیس میں ہاتھا پائی اور جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پٹنہ پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور واٹر کینن کا استعمال کیاپولیس کی اس جوابی کارروائی کے دوران کچھ نوجوان اِدھر اُدھر بھاگتے نظر آئے، تاہم بڑی تعداد میں طلبا وہیں ڈٹے رہے اور حکومت مخالف نعرے بازی جاری رکھی۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ مشتعل طلبا نے میڈیا اہلکاروں اور مختلف چینلز کے صحافیوں کے ساتھ بھی بدسلوکی کی اور اپنا غصہ نکالا۔
اس حکومتی جبر کے خلاف ملک کے دیگر حصوں میں بھی ردعمل سامنے آیا؛ مدھیہ پردیش میں کانگریس لیڈر امنگ سنگھار کی قیادت میں اسمبلی اور وزیر اعلیٰ رہائش کے باہر شدید مظاہرہ کیا گیا، اتراکھنڈ میں کارکنان نے مودی حکومت کو ‘تانا شاہ’ قرار دیا، جبکہ ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے خود ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔
طلبا احتجاج سے پورا بھارت سلگ اٹھا ؛پٹنہ میں ’آئیسا‘مارچ پر پولیس کا لاٹھی چارج ، آنسو گیس شیلنگ

