واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لانے کے اشاروں کے بعد امریکا میں پٹرول کی قومی اوسط قیمت ایک بار پھر 4 ڈالر فی گیلن سے بڑھ گئی ہے، جس سے شہریوں میں مہنگائی کا نیا خوف پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی فوج اور ایران کے درمیان تازہ جنگ بھڑک اٹھنے کے بعد آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں (ٹینکرز) کی آمدورفت ایک بار پھر شدید تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے بحری ناکہ بندی بحال کیے جانے کے بعد کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا مفاہمتی معاہدہ بھی ابتر صورتحال کے باعث ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ پٹرول کی قیمتوں میں عارضی کمی کے باعث قیمتیں 4 ڈالر سے نیچے آ گئی تھیں، جس سے عوام کو مہنگائی سے کچھ ریلیف ملا تھا اور معاشی اشاریوں میں بھی بہتری دیکھی گئی تھی۔ تاہم، موجودہ بحران کے باعث پٹرول کی قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں اب بھی 86 سینٹ زیادہ ہو چکی ہیں۔
امریکا میں پٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئیں، مہنگائی کی بڑی لہر کاخدشہ


