نیویارک:فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سنسنی خیز فائنل میں شکست کے بعد دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کے کھلاڑی شکست کو برداشت نہ کر سکے اور میچ ختم ہونے کی سیٹی بجتے ہی میدان جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اسپین کے ہاتھوں تاج چھن جانے کے بعد ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کے اشتعال انگیز رویے نے شائقین کو دنگ کر دیا۔
میچ کے دوران ہی ارجنٹینا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ فرنانڈیز کو پہلے احتجاج کرنے پر پیلا کارڈ ملا اور پھر ایک خطرناک و تاخیر سے کیے گئے ٹیکل پر دوسرا پیلا کارڈ دکھا دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ریڈ کارڈ ملنے پر باہر ہو گئے اور اس دوران پاؤ کوبارسی زمین پر گر پڑے۔
جب میچ ختم ہوا تو غصے میں بپھرے ہوئے ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے ہار ماننے کے بجائے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا۔ پاریڈیس کو اسپین کے روڈری، گاوی اور بورخا ایگلیسیاس کے ساتھ الجھتے دیکھا گیا، جبکہ ان کے ساتھی ناویل مولینا نے تو حد ہی کر دی جب انہوں نے گزرتے ہوئے ایک ہسپانوی کھلاڑی پر مکا برسا دیا۔ ان مناظر نے پوری دنیا میں ارجنٹینا کی ٹیم کے وقار پر بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
میچ کے بعد ہنگامہ خیز پریس کانفرنس میں ارجنٹینا کے کوچ لیونل سکیلونی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ وہ بظاہر اپنی ٹیم کی شکست پر آنسو بہاتے ہوئے کارکردگی کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن آخر کار انہیں اعتراف کرنا ہی پڑا کہ "بہتر ٹیم (اسپین) ہی کامیابی کی حقدار تھی۔”
فرنانڈیز کو ملنے والے ریڈ کارڈ پر بات کرتے ہوئے سکیلونی کا کہنا تھا کہ اگرچہ 85ویں منٹ تک اسپین ہم پر حاوی رہا، لیکن وہ یہ دیکھنا چاہیں گے کہ اگر ان کے پورے 11 کھلاڑی میدان میں رہتے تو نتیجہ کیا ہوتا۔ شکست کے بعد ارجنٹینا کا یہ رویہ فٹبال کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار کیا جا رہا ہے۔
وقار بھی کھو بیٹھے؟ شکست کے بعد ارجنٹین ٹیم کا شرمناک رویہ، ہسپانوی کھلاڑیوں سے ہاتھ پائی


