Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی

      مصنوعی ذہانت کا مستقبل: پاکستان نے 29 ممالک کے ساتھ مل کر عالمی اتحاد WAICO قائم کر لیا

      فوڈ ڈیلیوری کا نیا بادشاہ کون؟ اوبر اور ڈیلیوری ہیرو کا 99 ممالک میں راج!

      کیا پنجاب میں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی ختم ہونے والی ہے؟ پنجاب اسمبلی میں قرارداد نے ہلچل مچا دی!

      ایران کیخلاف جنگ میں پہلی بار خلائی فورس کا استعمال، ’’سلیمانی کلاس‘‘ کے چارو ں بحری جہاز تباہ کردئیے، ایڈمرل کوپر

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    کورونا، 12 مریض ملنے کے بعد آئسولیشن وارڈ تیار

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    آندھرا پردیش میں ایک بار پھر کورونا وائرس نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے، جس سے عوام اور طبی ماہرین میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ ریاست میں 26 جون سے 16 جولائی کے درمیان کووڈ-19 کے 12 نئے معاملے سامنے آئے ہیں، جن میں سے 4 مریضوں کی موت ہو گئی۔ ریاستی محکمۂ صحت کے مطابق مرنے والے تمام مریض پہلے سے ہی سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے۔ اس دوران احتیاطی اقدامات کے طور پر کڈپا کے راجیو گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (رِمس) اسپتال میں کووڈ وارڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

    ریاست کے ہیلتھ کمشنر جی ویرپانڈین نے بتایا کہ جن 4 مریضوں کی موت ہوئی، وہ پہلے سے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور گردے کی بیماری جیسی سنگین صحت کی پیچیدگیوں سے دوچار تھے۔ ان میں سے 3 مریض کڈپا ضلعہ کے رہنے والے تھے، جبکہ ایک مریض کا تعلق کاکیناڈا سے تھا۔ حکام کے مطابق ان مریضوں کی صحت پہلے ہی خراب تھی اور کورونا وائرس کے انفیکشن کے بعد ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔

    ہیلتھ کمشنر نے کہا کہ ریاست میں کووڈ-19 کے معاملے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورت حال کو مکمل طور پر غیر معمولی نہیں کہا جا سکتا، تاہم صحت کے حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن احتیاطی تدابیر کو نظرانداز بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔

    سرکاری معلومات کے مطابق 2026 میں آندھرا پردیش میں کووڈ-19 کا پہلا معاملہ 26 جون کو کڈپا ضلع میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد یکم جولائی سے 16 جولائی کے درمیان مزید 11 افراد میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی تصدیق ہوئی۔ اس طرح 26 جون سے 16 جولائی تک ریاست میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 12 ہو گئی۔ حکام کے مطابق متاثرہ افراد میں سے 2 ایسے تھے جو پہلے سے متاثر مریضوں کے قریبی رابطے میں آنے کے بعد کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کی منتقلی اب بھی قریبی رابطوں کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی وجہ سے صحت کے حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ علامات ظاہر ہونے کی صورت میں لاپرواہی نہ برتیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی مشورہ حاصل کریں۔

    کڈپا کے رِمس اسپتال میں کووڈ وارڈ قائم کیے جانے کو بھی اسی سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اسپتال میں کووڈ سے متاثرہ مریضوں کے علاج اور نگرانی کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ اضافے کی صورت میں مریضوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق سب سے زیادہ خطرہ پہلے سے سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد کو رہتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گردے کی بیماری اور دیگر دائمی امراض میں مبتلا مریضوں میں انفیکشن کی صورت میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ آندھرا پردیش میں ہونے والی 4 اموات بھی اسی پہلو کی جانب اشارہ کرتی ہیں، کیونکہ تمام متوفی مریض پہلے سے ہی سنگین بیماریوں سے نبرد آزما تھے۔

    بہرحال، ریاستی حکام نے واضح کیا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس وقت بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی کوئی اطلاع نہیں ہے، لیکن نئے معاملات اور اموات کے پیش نظر صحت کا نظام محتاط ہے۔ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صحت سے متعلق بنیادی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، خاص طور پر وہ افراد جو پہلے سے کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص، مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    Related Posts

    فیفا ورلڈ کپ 2026 ایوارڈ یافتہ بننے کے لیے کون سے کھلاڑی فیورٹ ہیں؟

    ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی

    الٹنے والی گاڑی تلے دب کر ایک شخص جاں بحق

    مقبول خبریں

    فیفا ورلڈ کپ 2026 ایوارڈ یافتہ بننے کے لیے کون سے کھلاڑی فیورٹ ہیں؟

    ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی

    کورونا، 12 مریض ملنے کے بعد آئسولیشن وارڈ تیار

    سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا 20واں دن؛ وزن میں 9 کلو کمی، دہلی ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا،

    بدنامی سے تنگ آکر اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے بیٹے نے نام تبدیل کرلیا،نیا نام کیا ہے؟

    بلاگ

    ’’امریکا ایران جنگ کا نیا مرحلہ‘‘ میاں حبیب کا کالم

    بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصرملوث اورمتحرک

    آخر مچھر مجھے ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟اس کے پیچھے چھپی دلچسپ سائنس

    "تاریخ کا پہلا اور آخری جنازہ… جس میں شریک ہونے کے لیے انگریز سرکار نے ‘ٹیکس’ لگا دیا تھا!”

    گلو شاہ میلہ: تاریخ، اہمیت اور موجودہ صورتِ حال

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.