نئی دہلی:لداخ سے تعلق رکھنے والے ممتاز سماجی کارکن اور ماہرِ ماحولیات سونم وانگچک کی دہلی کے جنتر منتر پر جاری بھوک ہڑتال کو 20 دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ طویل بھوک ہڑتال کے باعث ان کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے، جس پر دہلی ہائی کورٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ان کی صحت کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔
سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ "ہر شہری کی جان قیمتی ہے” اور انہیں سونم وانگچک کی صحت کے حوالے سے تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، طویل احتجاج کے دوران اب تک ان کا وزن تقریباً 9 کلوگرام کم ہو چکا ہے، جس سے ان کے چاہنے والوں اور حامیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
سونم وانگچک، جو تعلیم میں اصلاحات اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں، دراصل ملک بھر میں امتحانی نظام میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج ابتدائی طور پر ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں سونم وانگچک کی حمایت حاصل ہوئی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت لائی جائے تاکہ نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
سونم وانگچک کون ہیں؟
سونم وانگچک کا شمار بھارت کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیمی اصلاحات اور پہاڑی علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ یاد رہے کہ بالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم "تھری ایڈیٹس” کا مرکزی کردار ‘پھنسوک وانگڑو’ انہی کی زندگی سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا۔
فی الحال جنتر منتر پر ان کا احتجاج جاری ہے، جبکہ سول سوسائٹی کے ارکان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے۔

