چکوال:مہتاب نصیر اعوان سے
16 جولائی 2025 کی رات چکوال پر قیامت بن کر ٹوٹی۔ مسلسل موسلا دھار بارش نے ضلع بھر میں ایسی تباہی مچائی کہ معمولاتِ زندگی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ چوآسیدن شاہ، تلہ گنگ، چکوال شہر، ڈھڈیال، کلر کہار، اور دیگر متعدد علاقے شدید متاثر ہوئے۔ سیلابی ریلوں نے رابطہ پل بہا دیے، کئی سڑکیں زیرِ آب آ گئیں، کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد نجی منی ڈیم بھی ٹوٹ گئے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ مختلف سرکاری و میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آفت میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع بھر میں تقریباً 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو کہ کلاؤڈ برسٹ کا نتیجہ تھی۔
سیلابی تباہی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 19 جولائی 2025 کو ضلع چکوال کا ہنگامی دورہ کیا، فضائی جائزہ لیا، متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی امداد اور متاثرین کی بحالی کے اقدامات کا اعلان کیا۔
تاہم، ایک سال گزرنے کے باوجود ضلع چکوال کے متعدد متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے گھروں، املاک اور فصلوں کے نقصانات کا ازالہ نہیں مل سکا۔ ان کا مؤقف ہے کہ نقصانات کا سروے اور تخمینہ تو لگایا گیا، مگر عملی امداد نہ ہونے کے برابر رہی۔
سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں ایک نواحی گاؤں گھنوال بھی شامل تھا جہاں دو بچے جاں بحق ہوئے، جن کے لواحقین کو حکومتی معاوضہ دیا گیا، لیکن مقامی افراد کے مطابق 60 سے زائد مکانات جزوی یا مکمل طور پر متاثر ہوئے۔ گھروں کا سروے اور نقصان کا تخمینہ بھی لگایا گیا، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود تمام متاثرہ خاندان آج بھی مالی امداد اور بحالی پیکیج کے منتظر ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار متعلقہ حکام سے رجوع کیا، مگر انہیں صرف یقین دہانیاں ملیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اپنے اعلانات پر عمل کرتے ہوئے تمام متاثرہ خاندانوں کو بلاامتیاز معاوضہ اور بحالی کی سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ دوبارہ معمول کی زندگی شروع کر سکیں۔
16 جولائی 2025 کی وہ المناک رات آج بھی چکوال کے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ یہ سانحہ صرف شدید بارش کا نہیں بلکہ ان متاثرہ خاندانوں کی طویل جدوجہد کی بھی یاد دلاتا ہے، جو ایک سال بعد بھی اپنی بحالی اور حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

