واشنگٹن ڈی سی: عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلنے کو ‘بین الاقوامی ہنگامی صورتِ حال’ قرار دیے جانے کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وائرس کو پڑوسی ممالک تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مختلف ممالک نے اپنی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر سکریننگ کے سخت ترین اقدامات نافذ کر دیے ہیں، جبکہ کئی ممالک نے متاثرہ خطوں سے آنے والے مسافروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
امریکا اور کینیڈا: امریکا نے جمہوریہ کانگو سے آنے والے شہریوں کی واپسی پر پابندی لگاتے ہوئے ’ڈو ناٹ بورڈ‘ فہرست جاری کر دی ہے۔ متاثرہ مسافروں کو کسی تیسرے ملک میں 21 دن گزارنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کینیڈا نے جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان سے آنے والے افراد کے لیے 90 دن کی سفری پابندی نافذ کر دی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ: اُردن نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا جبکہ بحرین نے تینوں افریقی ممالک سے آنے والے غیر ملکیوں کے داخلے پر 30 دن کی پابندی عائد کر دی ہے۔
سکریننگ اور قرنطینہ: تھائی لینڈ نے سخت ترین حکمتِ عملی اپنائی ہے، جہاں متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کو 21 دن تک قرنطینہ یا آئیسولیشن میں رہنا ہوگا۔ انڈیا، کینیا اور زیمبیا نے بھی اپنے ایئرپورٹس پر سکریننگ کے خصوصی مراکز قائم کر دیے ہیں۔
یورپی یونین کا موقف: دوسری جانب یورپی یونین نے ان پابندیوں سے اختلاف کیا ہے۔ ای یو ہیلتھ سکیورٹی کمیٹی کے مطابق، فی الحال عام شہریوں کے لیے خطرہ کم ہے، اس لیے داخلے کے وقت اضافی سکریننگ کی ضرورت نہیں ہے۔ یورپی کمیشن کا ماننا ہے کہ سرحدوں پر مزید سخت اقدامات کا کوئی ٹھوس طبی ثبوت موجود نہیں ہے۔ تاہم، امریکا نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فٹبال ورلڈ کپ کے پیشِ نظر اپنے حفاظتی انتظامات سخت کریں۔
ایئرلائنز کا ردِعمل: فضائی کمپنیوں کے آپریشنز بھی اس صورتِ حال سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ڈچ ایئرلائن ‘کے ایل ایم’ (KLM) نے یوگنڈا کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں کیونکہ مختلف ممالک کی جانب سے عملے پر عائد سفری پابندیوں کے باعث پروازیں جاری رکھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ برسلز ایئرلائنز نے اپنی پروازوں کا شیڈول تو برقرار رکھا ہے، لیکن اپنے عملے کے ڈیوٹی شیڈول میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ ایسے عملے کو امریکی روٹس پر نہ بھیجا جائے جن کا گزشتہ 21 دنوں میں ان افریقی ممالک سے تعلق رہا ہو۔
ماہرینِ صحت کے مطابق، ایبولا کا وائرس انتہائی مہلک ہے اور عالمی برادری کی جانب سے کی جانے والی یہ سختیاں وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک ناگزیر اقدام سمجھی جا رہی ہیں۔
ایبولا کا خوف: دنیا بھر کے دروازے بند، کئی ممالک میں سفری پابندیاں نافذ

