واشنگٹن: امریکا نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں کے ردعمل میں ایران کو خام تیل کی فروخت پر دی گئی عارضی رعایت کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے تہران کے اقدامات کو "قطعی طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کو ان اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے ساتھ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت مکمل طور پر اس کے رویے اور کارکردگی سے مشروط تھی۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایران کو مراعات صرف اسی صورت میں مل سکتی ہیں جب وہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی مذاکرات کار اب بھی ایران کے ساتھ ایک حتمی اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں اور سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔
جون 2026 میں جاری کیے گئے اس عارضی لائسنس کے تحت ایران کو 21 اگست تک اپنے خام تیل اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور بیرونِ ملک ترسیل کی اجازت دی گئی تھی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے اس حالیہ فیصلے سے تہران کے لیے معاشی طور پر مشکلات میں اضافے کا امکان ہے۔
یہ سخت فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں چند گھنٹوں کے اندر تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قطر کا مائع قدرتی گیس (LNG) لے جانے والا جہاز بھی شامل تھا۔ ان حملوں کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ قطر، جو اس کشیدگی میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا، نے بھی ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور انہیں عالمی تجارت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی فیصلے اور آبی گزرگاہوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نہ صرف ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ر تھے۔
سوابنائے ہرمز میں کشیدگی ؛ امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندی عائد کردی

