مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی سمیت ریاست کے دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے شدید بارش کا قہر جاری ہے، کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال ہے۔ معمولات زندگی درہم برہم ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج بھی بارش کا آرینج الرٹ جاری کیا ہے۔ شدید بارش کے سبب اب تک ریاست میں 13 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے مطابق تقریباً 100 مکانات کو نقصان پہنچا ہے، شدید سیلاب کے باعث سینکڑوں افراد گھر سے بے گھر ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ لوناولا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 625 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔ جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں رائے گڑھ میں 236 ملی میٹر، ٹھانے میں 161 ملی میٹر، رتناگری میں 152 ملی میٹر، پالگھر میں اوسطاً 132 ملی میٹر اور ممبئی کے مختلف علاقوں میں 100 سے 161 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب مسلسل بارش کے سبب ریاست کی کئی ندیاں طغیانی پر ہیں۔ الہاس، کالو اور پنزل ندیاں خطرے کا نشان پار کر چکی ہیں، جبکہ امبا، ساوتری، کنڈلیکا، پاتال گنگا اور جگبوڈی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ اس کے پیش نظر بدلاپور، موہانے اور جامبھول پاڑہ کے لیے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
لینڈسلائیڈنگ اور آبی جماؤ کے باعث ریاست کی کئی اہم شاہراہوں پر ٹریفک بھی متاثر ہوئی۔ ممبئی-گوا ہائی وے پر کشیڑی گھاٹ میں لینڈسلائیڈنگ کے باعث لمبا جام لگ گیا۔ اس کے علاوہ ممبئی-پونے ایکسپریس وے اور کھوپولی ہائی ویے پر بھی لینڈسلائیڈنگ اور آبی جماؤ کے باعث کچھ وقت کے لیے آمد و رفت متاثر رہی۔ ماول اور تامھینی گھاٹ میں بھی لینڈسلائیڈنگ اور سیلاب کا بڑے پیمانے پر اثر دیکھنے کو ملا، جس کے باعث گاڑیوں کو متبادل راستوں پر ڈائیورٹ کیا گیا۔
مہاراشٹر کے علاوہ ہمالیہ کی وادیوں میں بھی مانسون نے جم کر تباہی مچائی ہے۔ جموں و کشمیر کی چناب وادی میں اچانک آئے سیلاب نے ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ ڈوڈہ-کشتواڑ قومی شاہرہ پر ہوئے لینڈسلائیڈنگ نے ٹرک، ڈوزر اور کئی گاڑیوں کو اپنی زد میں لے لیا، جسے سے یہاں کا رابطہ پوری طرح منقطع ہو گیا۔ انتظامیہ کو ’مچیل ماتا یاترا‘ کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔ سب سے بڑا جھٹکا کشتواڑ کے 540 میگاواٹ کے ’کوارپن بجلی‘ منصوبہ کو لگا ہے۔ یہاں ایک بڑی لینڈسلائیڈنگ ہوئی جس نے اس منصوبہ کے بنیادی ڈھانچے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ کئی گاڑیاں اور مشینیں ملبے کی زد میں آ گئیں، جنہیں نکالنے کے لیے جے سی بی اور بھاری مشینوں سے کام چل رہا ہے۔

