چین کی ایک عدالت نے 6 جولائی کو رشوت سے متعلق مقدمہ میں ایک سابق مقامی افسر کو سزائے موت سنائی ہے۔ اس افسر کا نام یانگ یولن ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 30 برس تک اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کافی زیادہ رشوت وصول کی۔ یانگ یولن چین کے مشرقی ساحل پر واقع چانگژو صوبے کی راجدھانی نانجنگ میں سابق اقتصادی ترقی کے افسر تھے۔ چانگژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے 6 جولائی بروز پیر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ یانگ یولن نے 1993 سے 2023 کے درمیان غیر قانونی طور پر 2.21 ارب یوان (تقریباً 325 ملین امریکی ڈالر) مالیت کے اثاثے حاصل کیے۔ اس کے علاوہ ان پر سرکاری فنڈز میں خرد برد، عہدے کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات بھی ثابت ہوئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں حاصل کی گئی ان کی غیر قانونی دولت کو سب سے زیادہ قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 69 سالہ یانگ یولن نے 1993 سے 2023 تک نانجنگ میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ اور اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو انجینئرنگ کے ٹھیکے، زمین کی منتقلی اور مالی سہولیات دلانے میں مدد کی۔ اس کے بدلے میں انہوں نے نقد رقم اور قیمتی اشیاء کی صورت میں کافی رشوت لی ہے۔ چینی صدر شی جنپنگ کی بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت یانگ یولن کی جانچ کی گئی۔ اس میں فوجی رینکوں اور اعلی سطحی بینکنگ سمیت دیگر شعبوں کو بھی شامل کیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس مہم کا استعمال سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

