قاضی احمد رپورٹ سائين بخش لاکھو
قاضی احمد تعلقے کے پچھڑی علاقوں کی ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کو پانی فراہم کرنے والی دولت پور شاخ کے آخری حصے میں مبینہ طور پر مصنوعی پانی کی قلت کے باعث شاخ مکمل طور پر خشک ہو چکی ہے اور اس میں ریت اڑنے لگی ہے۔ آخری سرے تک پانی کا ایک قطرہ بھی نہ پہنچنے کے باعث سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں سوکھ کر تباہ ہو گئی ہیں، جبکہ جانوروں، پرندوں اور مویشیوں کے لیے پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں رہا۔مقامی آبادگار اور جسقم تعلقہ قاضی احمد کے صدر کامریڈ غلام شبیر سنگراہ نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ آبپاشی مورو کے عملدارون نے شاخ کے ابتدائی حصے کا پانی بااثر زمینداروں کو فروخت کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں آخری علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ زرعی پانی کی عدم دستیابی کے باعث علاقے میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، ہزاروں ایکڑ زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے اور آبادگاروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔آبادگاروں نے مزید الزام لگایا کہ دولت پور شاخ کے آخری حصے کے کاشتکاروں کے حصے کا پانی مبینہ طور پر بیلداروں اور داروغاؤں کی جانب سے بھاری رشوت کے عوض بااثر افراد کو فروخت کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عام آبادگار شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔انہوں نے اس صورتحال کو قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور آخری علاقوں کے آبادگاروں کو ان کے حصے کا پانی فراہم کیا جائے، بصورت دیگر سخت احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

